فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 43 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 43

۴۳ دو عورتیں بھی انعقاد نکاح کے گواہ بن سکتے ہیں۔جس شخص سے بوقت ضرورت سچی گواہی کی توقع نہ ہو اس کو گواہ بنانا بیکار ہے۔ه دفعہ نمبر 4 مہر اُس مالی منفعت کا نام ہے جو نکاح کے نتیجہ میں خاوند کی طرف سے بیوی کو واجب الادا ہے اور جس پر بیوی کلی تصرف کا حق رکھتی ہے۔تشریح نکاح کی صحت کے لئے پہلے سے حق مہر مقر کرنا ضروری نہیں جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت سے ظاہر ہے :- لا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاء مَا لَهُ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا d لَهُنَّ فَرِيضَةً له یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت بھی طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کو چھوا تک نہ ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو۔البتہ رخصتی ہو جانے کے بعد پورا حق مہر خود بخود واجب ہو جاتا ہے اور اگر حق مہر متعین نہ ہو تو مہر مثل کی ادائیگی واجب ہوتی ہے خواہ نکاح کے وقت مہر کا ذکر آیا ہو یا نہ آیا ہو۔اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی نکاح بغیر حق مہرا کے نہیں۔حق مہر کی ادائیگی خاوند کے ذمہ واجب ہے جیسا کہ فرمایا :- له سورة البقره آیت ۲۳۷