فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 31 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 31

I وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ - له یعنی حضرت زید بن ثابت سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اور پھر رخصتانہ سے پہلے اسے طلاق دے دے تو کیا وہ شخص اس عورت کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے۔حضرت زید نے اس کا یہ جواب دیا کہ قرآن کریم نے اُمَّهُتُكُمْ ہیں ام کو عام رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری اس بیوی کی ماں جس سے تم مباشرت کر چکے ہو۔اس لئے بیوی کی ماں سے نکاح حرام ہونے کے لئے مباشرت شرط نہیں صرف نکاح شرط ہے۔البتہ بیوی کی بیٹی جو اس کے دوسرے خاوند سے ہے اس کے حرام ہونے کے لئے مباشرت کی شرط ہے۔اگر مباشرت نہیں ہوئی اور طلاق ہوگئی ہے تو اس بیوی کی لڑکی یعنی ربیبہ سے طلاق دینے والا نکاح کر سکتا ہے۔بیٹے ، پوتے اور نواسے کی بیوی وغیرہ سے نکاح ابدی حرام ہے اور نص صریح سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا :- وَحَلائِلُ ابْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَا بِكُمْ لَه یعنی تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری نسل سے ہیں وہ بھی تم پر حرام ہیں۔بیٹے کے ساتھ پوتے اور نواسے کی بیویاں بھی اسی حکم میں شامل ہیں۔اس حرمت کے لئے بھی مباشرت اور مجامعت کی شرط نہیں محض بیٹے کے نکاح سے ہی یہ حرمت واقع ہو جاتی ہے۔ج : " من اصلا یکم کی قید سے یہ واضح ہے کہ متبنی " یعنی منہ بولا بیٹے کی بیوی اس حرمت کے حکم میں شامل نہیں اس سے نکاح ہو سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- فلما قضى زَيْدُ مِنْهَا وَطَرًا زَوَجْنَتَهَا لِكَى لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي ازواجِ ادْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَراً وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُولاً سه یعنی جب زید نے اس عورت کے بارہ میں اپنی خواہش پوری کر لی یعنی طلاق دے دی تو ہم نے اس عورت کا تجھ سے بیاہ کر دیا تا کہ مومنوں کے دلوں میں اپنے لے پالکوں ے موطا امام مالک کتاب النکاح باب ما لا يجوز من نكاح الرجل ص ١٩ له سورة النساء آیت ۲۴ سے سورۃ الاحزاب آیت ۳۸