فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 30
وامهت ت نِسَائِكُم اور تمہاری بیویوں کی مائیں بھی تم پر حرام کی گئی ہیں۔بعض فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ محض نکاح سے ہی اس کی ماں اور دادی وغیرہ کی حرمت ثابت ہو جاتی ہے یا مجامعت کا ہونا اس حرمت کے لئے ضروری شرط ہے۔جو لوگ بیوی کے ساتھ مجامعت کو اس حرمت مصاہرت کی شرط سمجھتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ آیت کریمہ و اصلتُ نِسَائِكُم وربالبكم التي في حُجُورِكُم مِّن نِسَائِكُمُ التِي دَخَلْتُمْ بِهِی میں دَخَلْتُمْ بِهِنَّ کی شرط کا تعلق " امھات اور ربائب“ دونوں کے ساتھ ہے لہذا جب تک مجامعت نہ ہو نہ ساس سے نکاح حرام ہے اور نہ ربیبہ کی حرمت لازم آتی ہے اس کے برعکس جمہور فقہاء اور جماعت احمدیہ کا مذہب یہ ہے کہ محض نکاح سے ہی بیوی کی ماں وغیرہ کی حرمت ثابت ہو جاتی ہے اور آیت مذکورہ میں دَخَلْتُم بِهِنَّ" کی شرط کا تعلق صرف " ربائب" کے ساتھ ہے اُمَّعْتُ نِسَائِكُمْ کے ساتھ نہیں۔جمہور کی اِس دلیل کی تائید عمرو بن شعیب بنے کی روایت سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے اپنے باپ کی وساطت سے اپنے دادا سے کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرے تو اس کے بعد اس کے ساتھ مجامعت کرے یا نہ کرے اس شخص پر اس عورت کی ماں حرام ہو جاتی ہے۔اس روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں :- عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ عَنْ آبِيْهِ عَنْ جَدِهِ انَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّهَا رَجُل كَلَّمَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا أَوْلَمْ يَدْخُلُ فَلَا تَحِلُّ لَهُ امها له مشهور صحابی حضرت زید بن ثابت نہ نے بھی اسی مسلک کی صحت کو ثابت کیا ہے۔اس روایت کے الفاظ یہ ہیں :- سُئِلَ زَيْدُ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ فَا رَقَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا هَلْ تَحِلُّ لَهُ اُمَّهَا فَقَالَ زَيْدُ بن ثَابِتٍ لَا الْاتُ مُبْهَمَةٌ لَيْسَ فِيْهَا شَرْطُ له سورة النساء آیت ۲۴ له سورة النساء آیت ۲۴ س بداية المجتهد كتاب النكاح الفصل الثاني في المصاهرة جلد ۲ ص :