فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 27
۲۷ كَانَ غَفُورًا رَّحِيْمَان وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَبَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَأَحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاء ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ ، فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَاتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ولا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حكيما 0 تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری رضاعی مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہوا اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری ساسیں اور تمہاری وہ سوتیلی لڑکیاں جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم خلوت کر چکے ہو اور وہ تمہارے گھروں میں پلتی ہوں تم پر حرام کی گئی ہیں، لیکن اگر تم نے ان ماؤں سے خلوت نہ کی ہو تو اُن کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور اسی طرح تمہارے ان بیٹیوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہوں تم پر حرام ہیں اور یہ بھی کہ تم دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کر و۔ہاں جو گزر گیا سو گزر گیا۔اللہ یقینا بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور پہلے سے منکوحہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں باستثنا ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں آجائیں۔یہ اللہ نے تم پر فرض کیا ہے اور جوان اوپر کی بیان کہ وہ عورتوں کے سوا ہوں وہ تمہارے لئے بعد نکاح حلال ہیں۔یعنی اس طرح سے کہ تم اپنے مالوں کے ذریعہ سے انہیں طلب کر و بشر طیکہ تم شادی کرنے والے ہو زنا کرنے والے نہ ہو۔پھر دی شرط بھی ہے کہ اگر تم نے ان سے نفع اُٹھایا ہو تو تم انہیں ان کے مہر بہ مقدار موعود ادا کرو۔اور مہر مقرر ہو جانے کے بعد جس کمی بیشی پر تم باہم راضی ہو جاؤ اس کے متعلق تمہیں کوئی گناہ نہ ہوگا۔اللہ یقیناً بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ابدی محترمات (بر بنائے نسب) ا : وہ عورتیں جو مرد کے اصول میں شمار ہوتی ہیں ان سے نکاح ابدی حرام ہے مثلاً ماں ، نانی، له سورة النساء آیت ۲۵۲۴