فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 25 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 25

۲۵ نکاح کا اخفاء اگر فاشند اغراض پر مبنی ہو تو عدالت یا قضاء ایسے خفیہ نکاح کو نا جائز قرار دے سکتی ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد سے ظاہر ہے جسے حضرت امام مالک نے اس طرح روایت کیا ہے :۔الى الزبيرِ الْمَلّي ان عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِنِكَاحِ لَمْ يُشْهَدْ عَلَيْهِ الارجل وَامْرَأَةٌ فَقَالَ هَذَا نِكَامُ السّروَلَا أُجِيزُهُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمُتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ له یعنی ابی الزبیر مکتی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد اور عورت کے نکاح کا معاملہ پیش کیا گیا جس کے صرف ایک مرد اور ایک عورت گواہ تھے اور وہ عام مجلس میں نہیں پڑھا گیا تھا اس پر آپ نے فرمایا " یہ تو خفیہ نکاح ہے میں اسے جائز نہیں سمجھتا اور اگر نہیں نے اس سے پہلے اس قسم کے نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان کیا ہوتا تو میں ان دونوں کو اس خلاف ورزی کی سخت سزا دیتا۔لے مثلاً کو رکھنا کو مثلاً پہلی بیوی سے اس نکاح کو خفیہ رکھنا مقصود ہوتا کہ اس کے حقوق کو نظر انداز کیا جا سکے۔کے موطا امام مالك باب ما لا يجوز من النكاح ص19