فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 17 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 17

16 تار بانِيَّةَ فِي الْإِسْلامِ کہ اسلام میں مجرد رہنے اور دنیا ترک کر دینے کی کوئی ہدایت نہیں اور نہ ہی اس کے پسندیدہ ہونے کی کوئی سند ہے۔اسی طرح حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ صحابہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نمازیں پڑھیں گے، روزے رکھیں گے اور عمر بھر شادی نہیں کریں گے۔یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :- " کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میں نے شادیاں بھی کی ہیں " اسی سلسلہ میں آپؐ نے فرمایا :- نکاح میری سنت ہے اور جو شخص میری سنت کو ترک کرتا ہے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں " اس حدیث کے ایک حصہ کے الفاظ یہ ہیں :- و - " اَتَزَوَّجُ النِّسَاء فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنى به ب - " التعَامُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ لَمْ يَعْمَلُ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنَى سے آپ نے یہ بھی فرمایا : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجُ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ له یعنی تم میں سے جو شادی کی توفیق رکھتا ہے اسے چاہیے کہ شادی کرے کیونکہ شادی نظر نیچی رکھنے اور پاکدامن رہنے کا بہترین ذریعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں فَلْيَزَوجہ کا لفظ استعمال فرمایا جو امرکا صیغہ ہے لا رهبانية في الإسلام - المبسوط سرخسى بالا - یہ الفاظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ملتے البتہ ابوداؤومن لا صَيرُ ورَة فِي الْاِسلام کے الفاظ مروی ہیں۔صیرورہ کے معنے ہیں انقطع عن النكاح وتبتل - ابو داؤد کتاب المناسك باب لا صيرورة نیز دیکھیں مکتوبات سلیمانی جلد احث ۲۱ بخاری کتاب النکاح باب ترغیب النكاح جلد ۲ ص ه ابن ماجه کتاب النکاح باب فضل النكاح ص۱۳ که ابو داؤد کتاب النکاح باب التحريض على النكاح جلد اول ص ۲۷ ٢٤٩