فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 124 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 124

۱۲۴ سوائے اس سے کہ متوفی کی اگر ماں زندہ ہو تو ماں کو کل ترکہ کا یہ بطور ذی الغرض ملے گا اور دادا عصبہ ہوگا۔۴ - جذات اگر والدہ موجود نہ ہو تو دادی، نانی یا دونوں کو ترکہ کا پا حصہ ملے گا۔۵۔بیٹی اگر متوفی کی ایک بیٹی وارث ہو تو اس کو ترکہ کا یہ حصہ ملے گا۔ب۔اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو ان کو یہ حصہ ملے گا۔ج - اگر متوفی کی بیٹی کے علاوہ بیٹا بھی موجود ہو تو بیٹی عصبہ بالغیر ہوگی اور ترکہ ان کے درمیان ایک اور دو کی نسبت سے تقسیم ہو گا یعنی بیٹی کو ایک حصہ اور بیٹے کو دو حصے ملیں گے۔۶۔پوتی کو۔اگر مستوفی کی اولاد بیٹا، بیٹی زندہ نہ ہو تو پوتی وراثت میں میٹی کے قائمقام ہوتی ہے۔اگر ایک ہوتی ہو تو اس کو ترکہ کا پا حصہ ملے گا اگر دو یا دو سے زائد پوتیاں ہوں تو ان کو ترکہ کا حصہ ملے گا۔ب۔اگر متوفی کی ایک بیٹی اور ایک پوتی ہو تو ہوتی کو ترکہ کا حصہ ملے گا۔ج - اگر متوفی کی ہوتی کے ساتھ پوتا یا پڑ پوتا بھی موجود ہو تو سب عصبہ ہوں گے جن میں ترکہ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَةِ الأَنتَيْنِ " کے اصول کے تحت تقسیم ہوگا۔حقیقی بهین و بہن بھائی تب وارث ہوتے ہیں جبکہ متوفی بھائی کے نہ کوئی نرینہ اولاد ہو اور نہ اس کے باپ دادا زندہ ہوں یعنی نہ اس کی نرینہ اولاد ہو اور نہ اصل۔بهر حال اگر متوفی کی نرینہ اولا دیا باپ دادا موجود ہوں تو حقیقی بھائی بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔ب۔اگر متوفی کی اولا دیا باپ دادا بھائی میں سے کوئی موجود نہ ہو تو حقیقی بہن کو سے حصہ ملے گا۔