فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 119 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 119

119 و أولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أولى بِبَعْضٍ فِي كِتَبِ اللهِ اِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ یعنی بعض رحمی رشتہ دار اللہ کی کتاب کی رو سے باہمی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- لَا يَنْهَكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِى الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِن دِيَارِكُمْ اَنْ تَبرُوهُمْ وَتَقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَا إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَاَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَهُمْ فَا وَلَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ٥ یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اللہ تم کو صرف ان لوگوں سے گہری دوستی رکھنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے جنگ کی اور تم کو گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر تمہارے دشمنوں کی مدد کی اور جو لوگ بھی ایسے لوگوں سے دوستی کرئیں وہ ظالم ہیں۔ب :۔فقہاء اسلام نے قتل کے علاوہ میراث کے بعض اور مواقع بھی بیان کئے ہیں مثلا اختلاف دین، اختلاف دارین کسی حادثہ میں ایک ساتھ فوت ہو جانا وغیرہ۔لیکن ان اسباب کو مانع قرار دینے کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ بعض اوقات یہ اسباب موانع بن جاتے ہیں خصوصا جبکہ اختلاف دین کی وجہ سے با ہم سخت دشمنی پیدا ہو جائے اور نوبت جنگ و جدال تک جا پہنچے۔ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں مختلف الدین افراد کی موالات یعنی باہمی دوستی کا معاہدہ اور ایک دوسرے کی نصرت جو باہمی میراث کی اہم بنیاد ہے کیسے قائم رہ سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ แ " لَا يَتَوَارَتْ أَهْلُ الْمَلَتَيْنِ شَتَّى " یعنی دینی اختلاف میں غلو کرنے والے جو تشقت اور کے سورۃ الانفال آیت ۷۶ کے ابو داؤود كتاب الفرائض حي می سے سورۃ الممتحنہ آیت ۱۰۷۹