فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 9
لِسْمِ الله الرّحمٰنِ الرَّحِيمِ فقہ اسی سے کے مانند تمند قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی آخری اور کامل مشروعیت ہے اور تمام اسلامی قوانین و احکام کا حقیقی، اصل اور بنیادی منبع ہے۔چونکہ قرآن کریم میں کئی احکام اصولی اور اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں اس لئے بسا اوقات احکام قرآنی کی تفصیل کے لئے سنت کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے اور انسی بناء پر اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔اجتہاد کے معنے یہ ہیں کہ بدلے ہوئے حالات کے تقاضا کے پیش نظر قرآن اور سنت میں بیان کردہ اصول کی روشنی سے استفادہ یا شرعی امثال پر قیاس کر کے حسب ضرورت نئے احکام اخذ کئے جائیں۔غرض نئی ضرورتوں کے لئے مختلف مسلمہ ذرائع کی مدد سے نئے احکام اخذ کرنا اجتہاد کہلاتا ہے جس کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔اسی مفکر و تدبر اور شعوری کوشش کو اور اس کے نتیجہ میں مرتب شدہ احکام شریعت کو علم فقہ کہا جاتا ہے۔تمام فقہی مسائل کے لئے قرآن ، سنت اور حدیث بنیادی ماخذ ہیں۔قیاس، استحسان، استدلال استصحاب المحال اور عرف وغیرہ قرآن اور حدیث کے تابع اور مسائل فقہ کے ضمنی ماخذ ہیں۔مذاہب فقہ حنفی، مالکی ، شافعی ، جیلی یا اثنا عشری میں اختلاف ان بنیادی یا ضمنی ماخذ سے احکام کے استخراج و استنباط اور اجتہاد کے طریق کار میں اختلاف کی وجہ سے ہوا ہے۔جماعت احمدیہ صدقِ دل سے قرآن شریف کو آخری اور کامل شریعت مانتی ہے اسی طرح وہ سنت و حدیث کے حجت شرعی ہونے کی بھی قائل ہے۔پس فقہ احمدیہ کے بنیادی ماخذ اور مصادر قرآن، سنت اور حدیث ہیں اور ثانوی مأخذ قیاس، استحسان وغیرہ ان بنیادی مصادر کے باہمی تعلق کی بابت