فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 10
جماعت احمدیہ اس عقید ہے پر قائم ہے کہ قرآن شریف کی کوئی آیت منسوخ نہیں لہذا فقہاء کے نزدیک جو چیز نسخ قرآن بالقرآن یا نسخ قرآن بالسنہ کہلاتی ہے جماعت احمدیہ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ جماعت احمدیہ نسخ قرآن کی قائل ہی نہیں۔اگر کسی جگہ حدیث قرآن سے مختلف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے اور ان دونوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے اور اگر کسی طرح سے بھی تطبیق نہ ہو سکے تو حدیث کو ترک کر دینے میں ہی برکت ہے کیونکہ قرآن کا فیصلہ اٹل ہے۔فیقہ احمدیہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں سنت اور حدیث کو ایک چیز نہیں مانا گیا کیونکہ جماعت احمدیہ کے نزدیک سنت عملی تواتر کا نام ہے اور حدیث روایات کا مجموعہ ہے جنہیں بہت بعد میں مدون کیا گیا تھا۔جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام فقہ کے ماخذ کا ذکر و کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔" میرا مذ ہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔سب سے اول قرآن ہے جس میں خدا تی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے۔۔۔سوتم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کوبھی ٹا تھا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے“ نے نیز فرماتے ہیں :۔" قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور فن کی آلائشوں سے پاک ہے " سے دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سُنت ہے۔۔۔مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے۔خدا اور رسول کی ذمہ داری کا فرض صرف دو امر تھے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دے۔یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ه کشتی نوح صدا سن تصنیف در اکتوبر ۶۱۹۰۲، روحانی خزائن جلد ۱۹ ص۲ ه ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی جنگ مین تصنیف نومبر ۶۱۹۰۲، روحانی خزائن جلد ۱۹ ص۲۹