فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 111 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 111

دفعہ نمبر ۵ استحقاق حضانت 1 - حضانت کا حق والدین باہمی رضامندی سے متعین کر سکتے ہیں اور یہی طریق اولیٰ ہے۔ب۔اگر حضانت شق کر کے تحت طے نہ ہو سکے تو پھر یہ حق ثالث یا قاضی منذ جبریل اصول کو سامنے رکھ کر متعین کرے گا۔بشرط نبودی نابالغ۔ماں حضانت کی اولین حقدار ہے۔ماں کے بعد علی الترتیب، نانی، دادی، پڑنانی ، پڑوادی، بہن اور خالہ حضانت کی حقدار ہیں۔اگر ان میں سے کوئی موجود نہ ہو تو حق حضانت باپ اور باپ کی جانب سے دوسرے رشتہ داروں کو الاقرب فالا قرب کے اصول پر طے ہو گا۔تشریح اگرچہ ماں کو حضانت کا اولین حقدار قرار دیا گیا ہے مگر یہ حق بچے کی بہبود کے تابع ہے اگر ماں اور دوسرے دعویدار ان حضانت بچے کی بہبود کے لحاظ سے برابر ہوئی تو پھر ماں ہی اولین حقدار ہے لیکن اگر بچے کا ماں کے پاس رہنا کیسی وجہ سے اس کی بہبود کے خلاف ہو تو ماں کو یہ حق نہیں دیا جائے گا بلکہ متذکرہ ترتیب کے مطابق کیسی اور کو دے دیا جائے گا۔