فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 105
۱۰۵ کو نفقہ دے۔اگر کوئی شخص بیوی کے نان و نفقہ کی بالکل استطاعت نہیں رکھتا تو بیوی کے مطالبہ پر میاں بیوی میں تفریق کروائی جاسکتی ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ لَا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ يُفْرَقُ بَيْنَهُمَا حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک تنگ دست شخص جو اپنی زوجہ کو خرچ دینے کی بالکل استطاعت نہیں رکھتا تھا اس کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی بیوی کو حق علیحدگی حاصل ہے۔خاوند پر بیوی کو نفقہ دینے کی ذمہ داری اصولی ہے بیوی کا صاحب جائیداد ہونا اس ضمن میں غیر متعلق ہے کیونکہ خاوند اپنی صاحب جائیدا دبیوی کے نان و نفقہ کا بھی ذمہ دار ہے۔نان ونفقہ سے مراد زمانہ کے دستور اور معروف طریق کے مطابق خوراک، لباس اور رہائش مہیا کرنا اور علاج معالجہ کے اخراجات برداشت کرنا ہے۔بیوی اگر بلا عذر شرعی خاوند سے علیحدگی اختیار کئے رکھے یا نشو از اختیا ر کرے تو وہ نان و نفقہ کی حقدار نہیں رہتی۔عذر شرعی سے مراد ایسا عذر ہے جسے شریعیت تسلیم کرے مثلاً بیوی کا مہر معجل طلب کرنا اور خاوند کا ادا نہ کرنا۔ایسے ہی بیوی کی ایسی طبعی حالت جیسے حیض یا نفاس کے ایام ہیں جن کی وجہ سے وہ فرائض زوجیت ادا کرنے کے قابل نہیں رہی۔یہ سب امور خاوند سے علیحدگی اختیار کرنے کا شرعی عذر مہیا کرتے ہیں۔اسی طرح خاوند کے جبر و تشدد سے تنگ آکر مجبورا علیحدگی اختیار کرنا یا کسی ایسی جائزہ شرط کی بناء پر علیحدگی اختیار کرنا جو بوقت نکاح طے ہو چکی ہو عذر شرعی کے ذیل میں آئے گا۔پس اگر بیوی اس قسم کے کسی عذر شرعی کی وجہ سے علیحدگی اختیار کرے تو وہ با وجود علیحدگی اختیار کرنے کے نان و نفقہ کی حقدار ہو گی۔لدار قطنی بحواله نيل الأوطار كتاب النفقات باب اثبات الفرقة للمرأة إذا تعذرت النفقة جلد ۳۲۶ و بحواله فتح القدير من اس کے نشوز کے مفہوم کے لئے دیکھیں باب الطلاق صاف --