فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 104
دفعہ نمبر ۴۴ نان و نفقه خاوند اپنی بیوی کے نفقہ کا ذمہ دار ہے سوائے اس کے کہ بیوی خاوند کی مرضی کے خلاف کسی شرعی عذر کے بغیر اس سے علیحدہ رہائش اختیار کرے اور نشوز کی مرتکب ہو۔تشریح خاوند اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہے اور یہ ذمہ داری قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا انْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ له یعنی مرد اس فضیلت کے سبب سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو دوسروں میر دی ہے اور اس سبب سے کہ وہ اپنے مالوں میں سے عورتوں پر خرچ کرتے ہیں عورتوں پر نگران قرار دئیے گئے ہیں۔احادیث سے ثابت ہے کہ بیوی کے نان و نفقہ کے بارے میں خاوند کی ذمہ داری اس کی مالی حیثیت کے مطابق ہے، تاہم نان و نفقہ کی یہ اصولی ذمہ داری خاوند کی مالی حیثیت سے قطع نظرقائم رہتی ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :۔وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقُ مِمَّا اللهُ اللهُ له یعنی جو شخص تنگدست ہو تو اللہ تعالیٰ نے جتنا بھی اس کو دیا ہو وہ اس میں سے اپنی بیوی ل سورة النساء : ۳۵ نے بخاری کتاب النفقات ما سورة الطلاق : ٨