فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 103 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 103

۱۰۳ ابدی حرمت لازم نہیں آتی بلکہ تفریق کروا دینے اور عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے لیے سوائے اس کے کہ مرد اور عورت نے عمدا اس طرح نکاح کیا ہو اور معاشرتی مصالح کا تقاضا ہو کہ انہیں بطور سزا با ہمی نکاح کے حق سے محروم کر دیا جائے۔جو نکاح دوران عدت کیا جائے وہ اپنے اثرات کے اعتبار سے نکاح فاسد کے حکم میں ہے۔اس بارہ میں ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- رفع إلى عُمَرَ امْرَأَة تَزَوَّجَتْ فِي الْعِدَّةِ فَضَرَبَهَا وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا امْرَأَةِ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَجَهَا لَمْ يَدْخُلُ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَاعْتَدَتْ بَقِيَّةَ عِدَّ تِهَا مِنَ الْاَوَّلِ ثُمَّ كَانَ الْأَخَرُ خَاطِيَّا مِنَ الْخَطَّابِ وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَرقَ بَيْنَهُمَا ثَمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةُ عِدَّ تِهَا مِنَ الْاَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الْأَخَرِثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ اَبَدًا له σ یعنی ایک عورت نے عدت کے دوران نکاح کر لیا۔جب اس کی شکایت حضرت عمر کو ملی تو انہوں نے مرد و عورت دونوں کو کوڑے لگوائے اور پھر فرمایا اگر تو اس نے مباشرت نہیں کی تو ان میں تفریق کروا دی جائے اور پھر عدت کے بعد اگر یہ چاہیں تو نکاح کر سکتے ہیں اور اگر انہوں نے مباشرت کر لی ہے تو پھر دائمی تفریق ہوگی دونوں عدتوں کے بعد بھی یہ نکاح نہیں کر سکیں گے۔ل بداية المجتهد ص له۔مؤطا امام مالك ۳۹ ه