فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 102 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 102

۱۰۲ یعنی اللہ مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ حاملہ کی ہر قسم کی عدت وضع حمل ہے۔و اگر جدائی خلع یا نسیخ نکاح کی صورت میں ہو تو عدت ایک حیض ہے اور اگر حیض نہیں آتا تو عدت ایک ماہ ہے اور اگر حاملہ ہے تو عدت وضع حمل ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- عَنِ الرَّبيع بنت معوذ بن عفراءَ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ تَعْتَدَ بحيضة۔یعنی ربیعہ بنت معوذ کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے خاوند سے خلع لیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔ز - نکاح کے بعد اگر خاوند فوت ہو جائے تو عدت وفات چار ماہ دس دن ہے اور اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریمہ میں فرماتا ہے :- وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ اشْهُرٍ وَعَشْرًا: یعنی تم میں سے جن لوگوں کی روح قبض کر لی جاتی ہے اور وہ اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں چاہیئے کہ وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روک رکھیں۔اگر کوئی عورت عدت طلاق یا عدت فسخ گزار رہی ہو اور اس دوران میں اس کا خاوند فوت ہو جائے تو اس عورت کی سابقہ عدت ساقط ہو جائے گی اس کی بجائے اس کے لئے " عدت وفات گزارنا ضروری ہوگا اور وہ خاوند کی وراثت سے حصہ پائے گی۔عدت کی خواہ کوئی صورت ہو اس کے دوران نکاح جائز نہیں۔اگر کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے عدت کے دوران نکاح کرے اور تعلقات زوجیت بھی قائم ہو جائیں تب بھی فریقین کے درمیان تفریق لازم ہوگی البتہ عدت گزارنے کے بعد فریقین اگر چاہیں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔امام ابو حنیفہ اور امام شافعی" کا مذہب یہی ہے کہ عدت کے دوران نکاح ہو جانے سے ۱۴۲ ترمذی كتاب النكاح باب الخلع ) کے سورة البقرة : ۲۳۵