فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 101
ہو تو عورت کے لئے عدت ضروری ہے لیے ج - اگر جدائی طلاق کے ذریعہ ہو تو عدت تین حیض ہے لیے د - اگر کیسی عورت کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین قمری مہینے ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِلَى يَسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ اِنِ التَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَثَةَ أَشْهُرٍ والي لَمْ يَحِضْنَ سے یعنی تمہاری بیویوں میں سے وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر اُن کی عدت کے متعلق تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہیں آرہا۔هـ - اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل یعنی ولادت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- و أولاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ له یعنی جن عورتوں کو حمل ہو ان کی عدت وضع حمل تک ہے۔سُئِل سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ كَيْفَ افْتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَفْتَانِى إِذَا وَضَعَتِ أَنْ أَنْكِحَه یعنی سبیعہ اسلمی جو عدت وفات گزار رہی تھی اور حاملہ تھی اس سے پوچھا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدت کے بارہ میں انہیں کیا ارشاد فرمایا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے فرمایا جب بچہ پیدا ہو جائے تو تم نکاح کر سکتی ہو۔امام شعرانی لکھتے ہیں :- اتَّفَقَ الأَئِمَّةُ عَلَى انَّ عِدَّةَ الْعَامِلِ مُطلَقًا بِالْوَضع سَوَادُ الْمُتَوَلَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَالْمُطَلَّقَةٌ لَه لے سورۃ البقرہ آیت ۲۳۶ له سورة البقره آیت ۲۲۹ ۲۱۳ سورة الطلاق آیت ۵ نے مسلم کتاب الطلاق باب القضاء عدة المتوفى عنها زوجها - ن الميزان الكبرى للشعراني مص مصرى -