فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 93
سرو اور اگر پھول سے رہ جائے تو سجدہ سہو کرنا ضروری نہیں ہوتا۔نماز کے یہ سن پندرہ ہیں وہ کبیر تحریمیہ کے وقت ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔(۲) ہاتھ باندھنا۔(۳) ثناء پڑھنا۔(۴) سورۃ فاتحہ کی قرأت سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا یعنی تموز - (۵) رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہنا۔(۶) رکوع میں تین یا تین سے زیادہ بار تسبیحات کہنا۔(4) رکوع سے اٹھتے ہوئے جج اللہ کہنا یعنی تسمیع ، (۸) کھڑے ہو کر ربنا ولك الحمد كہنا یعنی تحمید - (۹) سجدہ میں جاتے ہوئے اور سجدہ سے اُٹھتے ہوئے تکبیر کہنا۔(۱۰) سجدہ میں تین یا تین سے زیادہ تسبیحات کہنا۔(11) درمیانی قعدہ کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھتے ہوئے تکبیر کہنا۔دو تشہد میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی شہادت کے وقت انگلی سے اشارہ کرنا۔(۱۳) آخری قعدہ میں تشہد کے بعد درود شریف اور دوسری مسنون دعائیں پڑھنا۔(۱۴) فرض کی پچھلی ایک یا دو ر کھتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا۔(10) نماز با جماعت کی صورت میں امام کا تکبیرات انتقالات نیز تسمیع و تسلیم بلند آواز سے کہنا۔یہ سب باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہیں۔ان کے کرنے سے ثواب زیادہ ملتا ہے اور اگر کوئی جان بوجھ کر ان میں سے کسی سنت کو چھوڑتے تو گنہگار ہوگا۔لیکن اگر بھوں چوک ہو جائے تو درگزر کے قابل سمجھا جائے گا اور سجدہ سہو بھی ضروری نہ ہوگا۔گو یا نماز میں ان سکن پر عمل کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی امتحان میں اعلی نمبر لے کر پاس ہو اور اس کامیابی پر اُسے خاص انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔اس کے برعکس جو شخص ان میں سے کوئی سنت بھول گیا تو گو وہ پاس سمجھا جائے گا لیکن دوسرے درجہ میں اس لئے وہ کسی خاص انعام کا مستحق نہیں ہوگا۔م مستحبات مستحبات مستحب کی جمع ہے۔یعنی وہ بات جو نماز کو حسین بنا دیتی ہے اس کے کرنے سے ثواب زیادہ ملتا ہے لیکن نہ کرنے پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا مستحبات نماز یہ ہیں۔(۱) قیام کے وقت نظر سجدہ کی جگہ پر اور رکوع کے وقت پاؤں پر اور قعدہ کے وقت سینہ پر مرکوز رکھنا اور ادھر ادھر نہ دیکھنا۔رکوع میں ہا تھو گھٹنوں پر سیدھے اور پہلو سے جدا رکھنا۔رکوع کے بعد کھڑے ہونے کے وقت ہاتھ کھلے چھوڑنا اور سجدہ میں جاتے وقت اس ترتیب سے مجھکنا کہ پہلے گھٹنے پھر ہاتھ پھر ناک اور آخر میں پیشانی زمین پر لگیں اور سجدہ سے اٹھتے وقت اُس کے الٹ کر نا یعنی پہلے پیشانی