فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 89 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 89

(۲) کلماتے ذکر کے علاوہ نماز سے متعلق کچھ افعال بھی ہیں جو نمازی کو بجالانے پڑتے ہیں ان افعال کا اجمالی ذکر و پر طریق نماز میں آچکا ہے کچھ مزید تفصیل درج ذیل ہے :- (1) رفع یدین : تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔ہاتھ اتنے اونچے اُٹھائے جائیں کہ انگوٹھے کانوں کی کو کے برابر تک پہنچ جائیں۔کانوں کو ہاتھ لگانا ضروری نہیں ہتھیلیاں نیم قبلہ رخ ہوں۔انگلیاں نہ بہت کشادہ اور کلی ہوئی ہوں۔اور نہ بالکل بند اور یا ہم ملی ہوئی۔بلکہ عام بھی حالت میں ہوں۔اس پہلی بار کے علاوہ نماز کے دوران میں کسی اور موقع پر ہاتھ اٹھا نے ضروری نہیں ہیں۔(۳) ہاتھ باندھنا :- تکبیر کے بعد ہاتھ سینہ کے نچلے حصہ پر باندھنا سنت ہے۔دایاں ہاتھ اوپر۔بایاں نیچے ہو دائیں ہاتھ کی تین درمیانی انگلیاں بائیں کلائی پر ہوں اور انگوٹھے اور چھنگلی سے پہنچے کے قریب سے کلائی کو پکڑسے ہوئے ہو۔(۳) قیام : جو شخص کھڑا ہو سکے اس کے لئے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ضروری ہے۔قیام نماز کا ایک ضروری رکن اور فرض ہے البتہ اگر کوئی شخص بیماری یا معذوری کی وجہ سے کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ نہ سکے تو لیٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔لیٹنے کا طریق یہ ہو کہ قبلہ کی طرف پاؤں کر کے چت لیٹ جائے یا پھر دائیں پہلو پر لیٹے اور منہ قبلہ کی طرف ہو۔(مم) رکوع : رکوع نماز کا ایک ضروری رکن اور فرض ہے۔رکوع میں کمر اور سر برابر ایک سیدھ میں ہوں۔ہاتھ سیدھے اور گھٹنوں پر رکھے ہوں۔انگلیوں سے ان کو پکڑسے ہوئے ہو اگر بیماری یا عذر کی وجہ سے پوری طرح رکورخ نہ کر سکے تو سر کو حسب سہولت جھکانے سے رکوع ادا ہو جائے گا۔(۵) قومہ : - رکوع کے بعد کھڑے ہونے ، ہاتھ کھلے رکھنے اور کھڑے کھڑے رَبَّنَا وَلَكَ الْحَد کہنے کو قومہ کہتے ہیں۔یہ واجب ہے۔(4) سجدہ :- زمین پر پیشانی رکھنے کو سجدہ کہتے ہیں۔یہ نماز کا ضروری رکن اور فرض ہے۔ہر رکعت میں دو سجدے ضروری ہیں۔سجدہ کرنے والا اپنے دونوں گھٹنے دونوں ہاتھ۔ناک اور