فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 83
اللهم اغسلني بالماء و الثلج والبرد - اسے میرے خدا غسل دے مجھے پانی کے ساتھ اور برف اور اولوں کے ساتھ۔(۳) سورۃ فاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کچھ زائد حصہ پڑھنا واجب ہے اور یہ حکم اس لئے ہے تاکہ وقتاً فوقتاً انسان کو اللہ تعالیٰ کے مختلف حکموں کے علاوہ اُن کے حقائق و معارف کا علم بھی ہوتا رہے جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔بطور نمونہ دو سورتوں کا ذکر نماز پڑھنے کا طریق “ میں ہو چکا ہے۔قرآن کریم کے کچھ مزید متنے بھی لکھے جاتے ہیں تاکہ مزید قرآن کریم یاد کرنے کا شوق پیدا ہو۔آیة الکرسی : اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَقُّ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اور قابل پرستش نہیں۔وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور سب کا محافظ ہے۔القيومة لا تأخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمط نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔لَهُ مَا فِي السَّماواتِ وَمَا فِي الأَرْضِ اُسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔من ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا کون ہے جو اسکی اجازہ کیے بغیر اس کی حضور کسی کی سفارش باِذْنِهِ يَعْلَمُ مَابین کر سکے۔وہ جانتا ہے اس کو بھی جو ان لوگوں کے آگے ايْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا پیش آنیوالا ہے اور اس کو بھی جوائن سے پیچھے گزر چکا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ ہے وہ اس کے علم میں سے تھوڑے سے حصہ کا بھی الا بما شاء وَسِعَ گریسته احاطہ نہیں کر سکتے مگر اتنے کا جتنا وہ چاہے۔اس کا السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ، وَلا اقتداره آسمان اور زمین پر حاوی ہے اور ان کی يَعُودُهُ حِفْظُهُمَاجٍ وَهُوَ حفاظت سے تھکتا نہیں۔اور بلند شان والا الْعَلِيُّ الْعَظِيمُه له اور بڑی عظمت والا ہے۔ب۔سورۃ بقرہ کی آخری آیت لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا اللہ تعالٰی کسی پر اسکی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں وُسْعَهَاء لَهَا مَا كَسَبَتْ ڈالتا جو اپنے اچھا کام کیا اسکا فائدہ اس کو ملے گا اور وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ جو برا کام عمداً کیا اس کے یہ نتائج کا بھی وہی ذمہ دار ہو گا۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا خدا سے ڈرنیوالے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے رب کریم بھول جائیں : - البقره : ۲۵۶