فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 82 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 82

۸۲ توجہ خشوع اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہو۔یہ نماز کا باطنی حصہ ہے۔زبان سے حمد و ثناء اور ذکر و تلاوت ہو اور جسم سے ادب و تعظیم یعنی خضوع کا اظہار ہو یہ نماز کا ظاہری حصہ ہے۔پس ظاہری لحاظ سے نماز کے دو حصے ہیں۔حمد وثناء پر مشتمل کلمات ذکر جو زبان سے ادا ہوتے ہیں اور دوسرے ادب و تعظیم معجز و انکسار پر مشتمل حرکات و سکنات جن کا اظہار اعضائے جسم کے ذریعہ ہوتا ہے۔کلمات ذکر کا مختصر بیان اوپر نماز پڑھنے کا طریق " میں آچکا ہے۔کچھ مزید تفصیل بغرض افاده درج ذیل ہے : (1) توجیه - ; نماز کی نیت سے جب کوئی مسلمان قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو تو سب سے پہلے تو جیہ یعنی مندرجہ ذیل آیت پڑھے۔اس کی پڑھنے سے تو اب زیادہ ملتا ہے۔علاوہ ازیں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کی بجائے اس آیت کا پڑھنا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے :- اتي وجهت وجهي للذي میں پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ اس ذات کی فَطَّر السموات والارض حنيفا طرف پھیر تا ہوں جنسی زمین اور آسمان کو بنایا ہئے۔وما انا من المشركين۔۔میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔(۲) دعائے استفتاح الصلوة نماز پڑھنے کا طریق میں ثناء کا ذکر آیا ہے۔اس کی بجائے مندرجہ ذیل دعا بھی پڑھ سکتے ہیں۔صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے بعد یہ دُعا پڑھا کرتے تھے۔اللهم باعد بینی و بین خطایای اے میرے خدا دوری ڈائد سے میرے اور ستر گنا ہو کے درمیان كما باعدت بين المشرق والمغرب جیسے دوری ڈالدی تو نے مشرق اور مغر کے درمیان اللهم نقني من خطاياي اسے خُدا صاف کہ مجھے میرے گنا ہوں سے كما ينقى الثوب الابيض من الدنس جیسے صاف کر دیا جاتا ہے سفید کپڑا میل سے۔-