فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 81 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 81

Al حکمت کو نہ سمجھ سکیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ وہ اقدام حکمت سے خالی ہے بلکہ اس پر یہ عام قاعدہ ہی چسپاں ہو گا کہ فصل الحكيم لا يخلوا عن الحكمة له حکم و دانا کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا تاہم اس اصولی جواب کے بعد خاص مستفسرہ امر کی یہ حکمت ظاہر ہے کہ رکوع محبوب و معبود کے سامنے آنے کی تعظیم میں ہے اور پہلا سجدہ انتہائی قرب کے مقام میں پہنچ کر قدم بوسی کے قائمقام ہے اور دوسرا سجدہ اس قرب کے مقام سے جدا ہوتے ہوئے واپسی کی کورنیش ہے جیسے انسان محبوب بادشاہ کے دربار میں جانے پر بھی قدم بوسی کرتا ہے اور وہاں سے رخصت کے وقت بھی قدم بوسی کہ کے واپس ہوتا ہے۔پھر حالت سجدہ ایک انتہائی۔قرب کا مقام ہے جیسا کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ اقرب ما يكون العبد من ربه اذا كان ساجدا اور ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے محبوب کے قرب میں ہوتا ہے تو بار بار والہانہ انداز میں اس کے آستانہ پر جبیں سائی کرتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب سوال : نمازہ کے سلام کے بعد دائیں یا بائیں طرف رخ کر نے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کیا تھا ؟ جواب: - حدیث میں آتا ہے کہ کان رسول اللہ صلی الله عليه وسلم یو منا فينصرف على جانبيه جميعا على يمينه وعلى شماله (ترمذی ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اپنا رخ انور لوگوں کی طرف کمر کے بیٹھتے تھے دائیں یا بائیں جس طرف چاہتے رخ پھیر تھے اس کی کوئی خاص پابندی نہ تھی۔تاہم بالعموم آپ دائیں طرف سے ہی مڑتے تھے جیسا کہ مسلم کی روایت ہے :- اكثر ما رأيت رسول اللہ صلی الله عليه وسلم ينصرف على يمينه۔دنيل الأوطار هي ) علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ حسب ضرورت جدھر سے چاہے منہ پھیر سکتا ہے۔لیکن اگر کوئی خاص ضرورت نہ ہو تو پھر دائیں طرف سے مڑنا بہر حال بہتر ہے۔لعموم الأحاديث المصرحة بفضل التيامين۔ضروری وضاحت د الضامت) ١٠ ۴ جیسا کہ اوپر اشارہ گذر چکا ہے نماز میں دل، زبان اور قسیم تینوں کا حصہ رکھا گیا ہے۔دل میں