فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 79
و وابى بكر و عمر فلم يرفعوا ايديهم الاعتد استفتاح الصلوة (بیہقی ) یعنی حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر حضرت عمران کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔تکبیر تحریمہ کے علاوہ یہ کسی موقع پر رفع یدین نہیں کرتے تھے۔(م) ابو اسحاق بیان کرتے ہیں۔کان اصحاب عبدالله و اصحاب علی لا يرفعون ايديهم الا في افتتاح الصلوة که حضرت عبد الله بن مسعود اور حضرت علی کے ساتھی تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز کے کسی اور حصہ میں ہاتھ نہیں اٹھایا کر تے تھے۔(ه) قال النيحوى الصحابة رضى الله عنهم ومن بعدهم مختلفون في هذا الباب واما الخلفاء الاربعة فلم يثبت عنهم رفع الأيدى فى غير تكبيرة الإحرام یعنی علامہ نیموی لکھتے ہیں کہ صحابہ رفع یدین کے بارہ میں مختلف الرائے تھے البتہ خلفائے اربعہ کے بارہ میں کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ وہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ بھی رفع یدین کرتے تھے۔(4) عن ابن عباس انه قال العشرة الذين شهد لهم رسول الله عليه وسلم بالجنة ما كانوا يرفعون ايديهم الآني انتتاح الصلوة - یعنی حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی تکبیر تحریمہ کے موقع کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتا تھا۔ان روایات سے ظاہر ہے کہ اس بارہ میں شروع سے اختلاف چلا آرہا ہے۔بعض روایات سے تکبیر تحریمیر کے علاوہ بھی رفع یدین ثابت ہے اور بعض سے اس کی تردید ثابت ہوتی ہے۔پھر جو دوسرے مواقع پر رفع یدین کے قائل ہیں وہ بھی ساری احادیث پر عمل نہیں کرتے۔بعض بیان کا عمل ہے اور بعض کو انہوں نے متروک العمل پایا ہے۔ایسے حالات میں فقہ کے اولین ائمہ مثلاً امام اعظم ابوحنیفہ امام دارالہجرت مالک۔امام ثوری کی رائے کو خاص اہمیت حاصل ہوتی چاہیئے۔کیونکہ انہوں نے