فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 78
۷۸ رکوع میں جاتے۔جب رکوع سے اُٹھتے۔جب سجدہ میں جاتے۔جب سجدہ سے اُٹھتے تو ہر موقع پر رفع یدین کرتے۔اسی مفہوم کی احادیث ترمذی اور ابو داؤد میں بھی مختصراً آئی ہیں۔۲ - حضرت امام بخاری نے اپنے رسالہ رفع الیدین میں ابن عمر سے روایت کی ہے کہ آنحصر صلی اللہ علیہ وسلم تشہد اول سے اُٹھتے ہوئے رفع یدین کیا کرتے تھے۔اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد سلام پھیر تے وقت۔ہاتھ اُٹھاتے تھے اس قسم کی تمام احادیث کے باوجود اکثر اہل حدیث صرف تین موقعوں پر رفع یدین کو تسلیم کرتے ہیں یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت۔رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سیدھا کھڑا ہونے پر۔انہوں نے باقی احادیث کو نظر انداز کر دیا ہے۔اس کے بالمقابل بعض اور سائمہ نے جن میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک بھی شامل ہیں صرف شروع میں تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کو ضروری مانا ہے اور باقی جگہوں میں ہاتھ اٹھانے سے منع کیا ہے ان ائمہ کا استدلال مندرجہ ذیل روایات سے ہے :- ، قال عبد الله ابن مسعود الا اصلی بكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ولم يرفع يديه الا اول مرة۔یعنی مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعود نے ایک بار کہا۔کیا میں تمہیں نماز پڑھا کہ نہ بتاؤں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نما نہ پڑھا کرتے تھے۔چنانچہ آپ نے اس کے مطابق نماز پڑھائی اور اس میں صرف ایک بار تکبیر تحریمہ کے موقع پر ) ہاتھ اُٹھائے۔یہ حدیث ترمذی نے بیان کی ہے جو صحاح ستہ میں شامل ہے۔اسی طرح ابو داؤد اور نسائی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔(۲) عن ابن مسعود ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يرفع يديه الأعند افتتاح الصلوة ولا يعود شيئًا من ذالك۔یعنی ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحر یر کے سوا نماز کے کسی اور حصہ میں ہاتھ نہیں اُٹھاتے تھے۔(مسند امام ابو حنیفہ) الا (۳) عن ابن مسعود قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم