فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 77
في الصلوة اليمنى على اليسرى - ر موطا امام مالک باب وضع اليدين او را هما على الاخرى في الصلواة مثل) اسی طرح بخاری اور مسلم کی روایت ہے :- عن سهل بن سعد الساعدي قد كان الناس يؤمرون ان يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعه اليسرى فى الصلاة - د بخاری کتاب الاذان باب وضع الیمنی على اليسرى من جلد اول علم مصر ) سوال :۔نماز میں ہاتھ باندھنے کا طریق کیا ہے ؟ جواب : " ہاتھ باندھنے کا اصل اور صحیح طریق یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کے پنجے کے قریب سے کلائی پکڑے اور دائیں ہاتھ کی باقی تین اُنگلیاں لمبے رُخ بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھے " اے رفع یدین سوال : - اہل حدیث کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکرایہ اور حضرت عثمان نے آخر تک نماز میں رفع یدین کرتے رہے۔اس بارہ میں جماعت احمدیہ کا کیا مسلک ہے ؟ جواب : - نماز میں کس کس جگہ ہاتھ اُٹھائے جائیں اس بارہ میں اختلاف ہے۔نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھا نے یعنی رفع یدین کرنے کے بارہ میں تو تمام علماء کا اتفاق ہے اور صحیح احادیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔لیکن اس کے علاوہ مندرجہ ذیل جگہوں میں اختلاف ہے۔رکوع میں جاتے ہوئے۔رکوع سے اٹھتے ہوئے۔سجدہ میں جاتے ہوئے سجدہ سے اٹھتے ہوئے۔سجدہ کے بعد دوسری رکعت کے لئے اُٹھتے ہوئے۔تشہد اول سے اُٹھتے ہوئے۔آخری تشہد کے بعد سلام کے وقت۔غرض تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی سات جگہوں کے بارہ میں مختلف احادیث میں ذکر آیا ہے جس میں سے چند یہ ہیں :- ا - عن مالك بن حويرث انه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يرفع يديه فى صلوته اذا ركع واذا رفع راسه من الركوع واذا سجد و اذا رفع راسه من السجود - (نسائی) یعنی مالک بن حویرث کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے جب : بهار شریعت ص