فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 76
اور پہلے کی طرح جتنی رکعتوں کی نمازہ ہو اس کے مطابق پہلی دو رکعتوں کی طرح تیسری چوتھی رکعت پڑھے۔اگر یہ فرض نماز ہے تو تیسری یا چوتھی رکعت میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھے۔کوئی اور سورۃ یا قرآن کریم کا کوئی حصہ نہ پڑھے۔سورۃ فاتحہ کے بعد رکوع میں چلا جائے۔اور اگر فرض نماز نہیں بلکہ سنت - وتم یا نفل نماز ہے تو پھر تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کوئی اور حصہ پڑھنا ضروری ہوگا۔غرض اس طرح بقیہ رکعتیں پوری کر کے آخری تشہیر کے لئے بیٹھ جائے۔تشہد پڑھے پھر درود شریف اور حسب منشاء کوئی مسنون دُعا پڑھ کر دونوں طرف منہ پھیرتے ہوئے تسلیم یعنی السلام عَلَيْكُمْ وَرَحْمَه الله کہے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد تسبیح و تحمید کرنا کچھ دیر تک ذکر الہی میں مشغول رہنا۔مختلف دعائیں پڑھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔جو شخص بیمار ہے اور کھڑا نہیں ہو سکتا وہ بیٹھ کر نماز پڑھے۔اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر پڑھے اور اگر رکوع و سجدہ نہیں کر سکتا تو اشارہ سے رکوع وسجدہ کرے یعنی سر کو جھکائے اور کچھ جنبش دے۔اسی طرح اگر ریل گاڑی بائیس وغیرہ کی سواری پر سفر کر رہا ہے اور کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی سواری کو ٹھہرا کر اتر کر نماز پڑھ سکتا ہے تو اس صورت میں بھی بیٹھے بیٹھے نماز پڑھے اس عدد کی صورت میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری نہیں ہوگا ہے نماز میں ہاتھ باندھنا اگرچہ اگر چہ ہاتھ چھوڑ کر نمانہ پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں اور دست بستہ کھڑا ہونا قانون فطرت کے گرد سے بھی بندگی کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر ہا تھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہو جاتی ہے۔مالکی بھی شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں مسنون وہی طریق ہے جو اوپر بیان ہوا " (فتاوی مسیح موعود من ) نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارہ میں امام مالک اپنی مشہور کتاب موطا میں روایت کرتے ہیں :- " عن عبد الكريم بن ابى المخارق البصرى انه قال من كلام النبوة اذا لم تستحى ناصنع ما شئت ووضع اليدين احدهما على الأخرى