فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 72 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 72

جز وسوم اسلامی نماز نماز پڑھنے کا طریق اسلام میں نماز کی جو صورت متعین ہوئی ہے اُس سے بڑھ کر مقبول و متبوع صورت نہ تو کسی اور مذہب میں رائج ہے اور نہ ہی اس سے بہتر عقل میں آسکتی ہے۔یہ جامع اور مانع طریق ان تمام عمدہ اصولوں اور مسلمہ خوبیوں اور فطری استعدادوں پر حاوی ہے جو دنیا کے اور مذاہب میں فرداً فرداً موجود ہیں۔اور نیاز مندی کے ان تمام آداب کو شامل ہے جو ذو الجلال معبود کے سامنے قوائے انسانی میں پیدا ہو نے ممکن ہیں۔اس طرح وہ خاص کلمات جو نماز میں صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے بھی نکالے جاتے ہیں۔اور جس روح انسانی متاثر ہوتی ہے نماز کی بے نظیری کے کافی ثبوت ہیں۔طریق نماز جو شخص نماز پڑھنے لگے وہ پاک بدن اور پاک لباس کے ساتھ جس وقت کی نماز پڑھنا چاہتا ہے اس کی دل میں نیت کر کے قبلہ رو کھڑا ہو جائے۔اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھائے اور ساتھ ہی اللہ اکبر یعنی اللہ سب سے بڑا ہے کہے۔اس تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں پھر اپنے ہاتھ سینہ کے نچلے حصہ کے قریب اس طرح باندھے کہ دایاں ہاتھ ادو پرا اور بایاں نیچے ہو۔اس طرح کھڑے ہونے کو قیام کہتے ہیں۔اس کے بعد ثناء :- سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إله غيرُكَ " پڑھے یعنی اسے اللہ میں تجھے سب نقائص سے پاک مانتا ہوں اور تیری حمد میں مشغول ہوں۔برکت والا ہے تیرا نام اور بڑی ہے تیری شان نہیں ہے کوئی قابل پرستش تیر سے سواک