فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 56 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 56

ង់។ پانی اور اس کے مسائل طہارت حاصل کرنے کا اصل ذریعہ پانی ہے پاک وصاف پانی استعمال کرنا چاہئیے۔بارش چشمے۔کوئیں۔تالاب - دریا اور سمندر کا پانی پاک ہے دوسری چیزیں اس سے دھوئی اور پاک کی جاسکتی ہیں صحت کے اعتبار سے جو پانی مضر ہو شلاً اس میں پتے گل سڑ جائیں یا کیڑے وغیرہ پڑ جائیں تو اسے صاف کر لینا چاہیئے۔پانی یہ رہا ہو یا کافی پھیلاؤ میں کھڑا ہو تو معمولی نجاست پڑنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ نجاست کی وجہ سے اس کا رنگ یا گو یا مزہ بدل جائے اس صورت میں وہ نا قابل استعمال ہو جائے گا۔اگر پانی تھوڑا یعنی تین چار مشک سے کم ہو اور اس میں کوئی نہیں چیز پڑ جائے تو وہ ناپاک ہو جائے گا۔خواہ اس گند کی وجہ سے اس کا رنگ، بو یا مزہ نہ بدلا ہو اس سے نہ وضو جائز ہوگا اور نہ نہانا بلکہ اس کی بجائے تمیم کرنا چاہیئے اس طرح اس پانی سے کپڑے دھونا اور برتن صاف کرنا بھی جائز نہیں۔جو پانی وضو یا نہانے کے لیے استعمال ہوا ہو با وجود ضرورت اور دوسرا پانی نہ مل سکنے کے اس استعمال شدہ پانی سے دوبارہ وضو کرنا یا نہانا درست نہیں میٹی کے ملنے سے پانی جو گلا ہو جاتا ہے اس کی پاگیز گئی میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ مٹی پاک ہے اس جوگی ** لیے وہ پانی بھی پاک ہے اور اس سے وضو وغیرہ جائز ہے۔ا پانی سے دھونے اور نجاست دور ہو جانے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے لیکن اگر نجاست نظر نہ آتی ہو یا اس کا نشان دور نہ ہو سکتا ہو تو پھر کپڑے کو تین بار ضرور دھونا چاہیئے ہر بار دھونے کے بعد اُسے نچوڑا جائے اس طرح سے وہ پاک ہو جائے گا۔چھوٹا دودھ پیتا بچہ اگر کپڑے پر پیشاب کر دے تو صحت نماز کے لیے ان کو مل کر دھونا ضروری نہیں صرف پانی چھڑک دینا کافی ہوگا۔پٹرول وغیرہ کے ذریعہ ڈرائی کلین سے بھی کپڑا پاک ہو جاتا ہے لو ہے یا کسی دوسری دھات سے بنی ہوئی چیز مثلاً چھری وغیرہ کو اگر گند لک جائے تو مٹی پر اچھی طرح رگڑنے یا آگ میں رکھنے سے وہ پاک ہو جائیگی۔اس طرح ہوتی پر گند لگ جائے تو زمین پر رگڑنے اور چلنے پھرنے سے وہ پاک ہو جائگی کاسکو سین کر نماز پڑھی جاسکتی ہے تاہم صفائی کے پیش نظرمسجد میں جوتی پہن کرنہیں جانا چاہیئے۔گند پڑنے سے اگر زمین نجی ہوگئی ہو تو دھوپ سے سوکھ جائے اورگند کا اتر زال ہو جانے سے وہ پاک ہو جائیگی اسے پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں۔سور اور کتے کے سواباقی ہر جانور کا چپڑا دھوپ میں سکھانے یا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے اسکی جوتی وغیرہ بنائی جا سکتی ہے اس طرح اُسے مصلے کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔