فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 55 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 55

۵۵ ضروری نہیں۔اگر کوئی عضو زخمی ہو اور اُسے دھونا نقصان دہ ہو خواہ اس پر پٹی بندھی ہوئی ہو یا گھنا ہو وضو کرتے وقت اس عضو کو دھونے کی بجائے اُس پر مسیح کر لینا کافی ہے۔مسیح کی اجازت میں رعایت اور سہولت کے پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہے تا کہ انسان بار بار بالوں کو اتارنے اور سینے کے تردد سے بچ جائے جرج اور تکلیف میں نہ پڑے۔تیم اور اس کے مسائل : اگر پانی کا استعمال مشکل ہو مثلا انسان بیمایہ ہو یا پاتی ملمانہ ہو یا پانی نجس ہو تو نماز پڑھنے کے لیے نہانے یا وضو کرنے کی بجائے انسان تمیم کرنے یعنی صاف و باک مٹی یا کسی غبار والی چیز اور اگر ایسی کوئی چیز نہ ملے تو ویسے ہی کسی ٹھوس چیز پر صحت نماز کی نیت سے بسم اللہ پڑھکر دونوں ہا تھ مارے اور ان کو پہلے منہ پر پھیرے اور پھر دونوں ہاتھوں پر عام حالات میں پہنچوں تک مسیح کافی ہے لیکن اگر با میں کھلی ہوں کوٹ یا موٹر وغیرہ نہ پہنا ہوا ہو کھلی آستینیں ہوں تو پھر کہنیوں تک مسح کرنا چاہئیے۔اگر ہاتھوں پر زیادہ مٹی لگ گئی ہو تو مسح کرنے سے پہلے انہیں جھاڑ لینا جائز ہے۔غسل واجب کے لیے بھی اُسی طرح تم کیا جاتا ہے جس طرح وضو کے لیے کیا جاتا ہے اس تمیم کے بعد انسان پاک ہو جاتا ہے اور جو نماز چاہے پڑھ سکتا ہے گھر میں بھی اور مسجد میں جاکر بھی اس کے لیے کوئی روک نہیں جب تک پانی نہ ملے یا انسان اس کے استعمال پر قادر نہ ہو تیم سے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔اسی طرح ایک نیم سے کئی نمازیں پڑھنا بھی جائز ہے جن باتوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اُن سے تیمیہ بھی ٹوٹ جاتا ہے اس کے علاوہ پانی مل جانے یا تندرستی کے یا بعد پانی کے استعمال پر قادر ہو جانے سے بھی تیم بانی نہیں رہتا اور وضو کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔تیم سے اگر چہ ظاہری صفائی کی غرض پوری نہیں ہوتی لیکن خیالات کو مجتمع کرنے، توجہ کو ایک طرف لگانے اور ایک۔اہم اور با برکت کام کرنے کے لیے مستعدی پیدا کرنے کا مقصد اس سے حاصل ہو جاتا ہے اس کے علاوہ تصویری زبان میں منکسرانہ دعا کا رنگ بھی اس میں پایا جاتا ہے گویا تمیم کرنے والا کہتا ہے اسے ہمارے خدا تیرے پانی کے بغیر ہم خاک آلود ہونے جاتے ہیں تیری یہ نعمت ہمیں نہ ملی تو ہمارے جسم گردو غبار سے کٹ جائیں گے۔اس لیے تو جلد پانی عطا فرما۔