فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 54
۵۴ گناہوں سے تائب ہونے کی طرف اشارہ کا رنگ رکھتا ہے۔زبان - آنکھ کان۔دماغ۔ہاتھ۔پاڈی اور شرمگاہ۔یہ سات اعضاء خدا کی نافرمانی یا فرمانبرداری کا موجب بنتے ہیں تمثیلی زبان میں ان ظاہری اعضاء کو دھو کر باطنی طور پر طاہر ہونے کی تمنا کا اظہار پایا جاتا ہے۔اعصابی امراض کے ماہرین کے تجربہ سے ثابت ہے کہ ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو ٹھنڈا کرنے سے جذبات اور خیالات کی رو کو بدلا جا سکتا ہے پھر دھو کے ذریعہ پراگندہ خیالات کی رو کو روک کر انسانی ذہن کو ذکر الٹی کی طرف پھیرا جاتا ہے اس سے اعتدلال حاصل ہوتا ہے۔علاوہ ازیں وضو میں جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے بالعموم وہی کھلے رہتے ہیں گرد و غبار اُن پر پڑتا رہتا ہے اس لیے اُن کو دھونے سے ایک تو یہ صاف ہو جاتے ہیں دوسرے ان کا دھونا آسان بھی ہے کیونکہ کپڑے وغیرہ اتارنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اخراج ریح سے وضو ٹوٹنے میں ایک خاص حکمت یہ بھی ہے کہ تا مسجد کا تقدس قائم رہے۔مجالس اور اجتماعات کی فضاء جو پہلے ہی اثر دھام کے تنفس کی وجہ سے ایک حد تک خراب ہو جاتی ہے بلا روک ٹوک اخراج ریخ سے مزید مکدر نہ ہونے پائے جرابوں پر مسح کرنا اگر وضو کر کے جرا میں پہنی گئی ہوں تو اس کے بعد وضو کرتے وقت جرا میں انا نا اور پاؤں دھونا ضروری نہیں بلکہ بصورت اقامت ایک دن رات اور بصورت سفر تین دن رات ان پر منح ہو سکتا ہے۔یہ مدت جرابیں پہننے کے وقت سے نہیں بلکہ وضو ٹوٹنے کے وقت سے شروع ہوگی۔جب تک جبرا میں استعمال کے قابل ہوں اُن پر مسح کیا جا سکتا ہے۔پس اگر جراب تھوڑی بہت پھٹی ہوئی ہو مثلاً شگاف میں سے کچھ ایڑی نظر آتی ہو۔اندازاً تین انگل کے برا برتشنگان ہو لیکن استعمال کے قابل ہو تو بھی کوئی حرج نہیں ایسی جرابوں پر مسح جائز ہے۔مسیح کا مسنون طریق یہ ہے کہ ہم نقطہ کو پانی میں تر کر کے ان کی انگلیاں پشت یا یعنی جرابوں کے اوپر پھیری جائیں یا اُن پر گیلے ہاتھ رکھ دیئے جائیں۔چمڑے کے موزے یا بند بوٹ پر بھی مسح جائز ہے انہیں بین کر نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر ایک جراب اتر جائے تو پھر دوسری جراب بھی اتار کر اور دونوں پاؤں کو دھو کر دوبارہ حرا نہیں پہنی چاہئیں یہ جائز نہیں کہ ایک پاؤں کو دھو لیا جائے اور دوسرے پاؤں جس میں جواب پہنی ہوئی ہے اُس پر مسح کیا جائے اگر وضو ہو لیکن مسح کی مدت ختم ہوگئی ہو تو جرا ہیں اتار کر صرف پاؤں دھو لینا کافی ہے سارا وضو کرنا