فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 53 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 53

۵۳ پہلے دائیں عضو کو دھوئے اور پھر بایاں۔اس کے علاوہ ترتیب کو مد نظر رکھنا اور اعضاء کو لگاتا ہے و ھونا بھی ضروری ہے۔یہ نہ ہو کہ منہ دھو لیا اور پھر اسکی خشک ہو جانے پر ہاتھ دھونئے۔ایک وضو سے انسان کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے کیونکہ جب تک وضو توڑنے والی کوئی بات ظاہر نہ ہو و صو قائم رہتا ہے۔فرائض وضو وضو کے چار فرض ہیں :- (1) پورا منہ دھوتا (۲) کہنیوں سمیت ہاتھ دھونا (۳) سرکا مسح کرنا یہ نوں سمیت پیٹوں دھونا ہے اگر ان میں سے کوئی فرض رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا سنن وضو وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا پھر پہنچوں تک ہاتھ دھونا کلی کرنا۔اس کے لیے مہاک استعمال کرنا۔تاک صاف کرنا۔ہر عضو کو تین بار دھونا۔سارے سر کا ایک بار مسیح کرنا اس کے ساتھ کانوں اور گردن کا مسح کرنا۔گھنی داڑھی کی صورت میں خلال کرنا۔قرآن کریم میں مذکور ترتیب کا لحاظ رکھنا۔یکے بعد دیگرے ہر عضو کو دھونا۔پہلے دائیں عضو کو اور پھر بائیں کو۔پانی کا استعمال مناسب مقدار میں کرنا۔اس میں افراط و تفریط سے بچنا۔یہ سب باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کی سنت اور آپ کے ارشادات کے عین مطابق اور آداب وضو میں شامل ہیں۔وضو کی حکمت موجبات وضو سے کسلمندی اور غفلت سی پیدا ہوجاتی ہے جو وضو سے دور ہو جاتی ہے اور جسم میں تازگی اور مستعدی آجاتی ہے عبادت الہی کے لیے توجہ اور یکسوئی حاصل ہوتی ہے اس ظاہری پاکیزگی سے باطنی طہارت کی طرف توجہ پھرتی ہے گویا ایک طرح سے تصویری زبان میں انسان یہ دعا کرتا ہے کہ جس طرح یہ ظاہری پانی ان اعضاء کی میل کچیل کو دور کر رہا ہے اسی طرح توبہ کا پانی اس باطنی میل کو دور کر دے جو ان اعضاء کی غلط کرداری کی وجہ سے چڑھ گئی ہے۔نیز وضو کی صورت میں جسم کے سات حصوں کو دھونا ان حصوں سے صادر ہونے والے