فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 49
۴۹ نماز کی دوسری شرط طهارت نماز کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونا - قرب الہی حاصل کرنے کی کو نہ کوشش کرتا ہیں اس کے لیے جہاں دل کا خلوص اور باطن کی پاکیزگی ضروری ہے وہاں جسم کی صفائی اور کپڑوں کی پاکیزگی بھی ایک لازمی شرط ہے۔کیونکہ اگر ہم گندے اور نا پاک نیم میلے کچیلے اور خراب کپڑوں کے ساتھ ایک معزز شخص کے پاس جانا نہیں چاہتے اور نہ ایسے ناصاف شخص سے خود عنا پسند کرتے ہیں تو پھر ایسی خراب حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور ہی جانا کیونکر پسندیدہ قرار دے سکتے ہیں۔اسی فطرتی تقاضا کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے پاک جسم اور پاک کپڑے ہونے چاہئیں نیز جس جگہ نماز پڑھی جائے اس کا پاک وصاف ہونا بھی ضروری ہے۔طہارت کے ایک منے یہ ہیں کہ جسم کے کسی حصہ پر کوئی گند لگا ہوانہ ہو مثلاً انسان کا بول و براز ، مادہ منویہ کسی جانور کا گو بر ، پیشاب، مرغی کی بیٹ۔زخم کی پیپ جسم سے بہ نکلنے والا خون حرام جانور یا مردار کا گوشت اور خون - کتے اور دوسرے حرام جانوروں کی رال اور اُن کا جوٹھا ، گلی کوچوں کا ناپاک کیچڑ۔یہ سب حقیقی نجاستیں ہیں۔ان میں سے کوئی نجاست اگر کسی وجہ سے جسم کے کسی حصہ کو لگ جائے تو پانی سے دھو کر جسم کو پاک وصاف کر لینا چاہیے۔اچھی طرح ایک بار دھونا کافی ہے، لیکن اگر تین بار دھویا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔اس ظاہری صفائی کے علاوہ نماز پڑھنے کے لیے غسل اور وضو بھی ضروری ہے غسل اور وضو کو طاقت حکمی کہتے ہیں اور حسین حالت کی وجہ سے یہ طہارت ضروری ہوتی ہے اس حالت کا نام نجاست حکمی یا حدث ہے۔موجبات غسل مین باتوں کی وجہ سے نہانا ضروری ہو جاتا ہے انہیں موجبات غسل کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔