فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 47 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 47

نمازیں پانچ فرض ہیں سوال: - اہلِ قرآن - قرآن میں تین نمازیں ثابت کرتے ہیں نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نماز جو موجودہ مسلمان ادا کرتے ہیں اس میں غیر قرآنی الفاظ ہیں۔قرآن میں ایک سجدہ ہے مگر نماز میں دو ادا کرتے ہیں جو قرآن کے احکام کے خلاف ہے ؟ جواب :۔اہل قرآن کا یہ خیال غلط ہے کہ قرآن مجید سے صرف تین نمازیں ثابت ہوتی ہیں قرآن مجید میں جس طرح ان تین نمازوں کا ذکر ہے جو اہل قرآن مانتے ہیں اسی طرح باقی دو نمازوں کا بھی ذکر ہے اور ان سب کا طریہ بیان ایک ساہی ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ہی امت مسلمہ پورے تسلسل کے ساتھ روزانہ پانچ بار نماز پڑھتی چلی آئی ہے قرآن کریم میں بالا جمال پانچ فرض نمازوں کا ذکر ہے اور حدیث میں ان کی تفصیل موجود ہے۔غرض ایک لیے عرصہ کا تاریخی تسلسل اور امت مسلمہ کا تواتر عملی پانچ نمازوں کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے۔تاریخ میں کہیں ایک واقعہ بھی نہیں تاکہ امت کی اکثریت نے کبھی تین نمازیں پڑھی تھیں اور پھر غلط طور پور پانچ نمازیں ہوگئیں۔غرض یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز خیال ہے کہ اتنے تو اتر اور نسل سے ہونے والی عبادات کے متعلق یہ شبہ پیدا کیا جائے کیونکہ یہ تو تاریخ کا ایک عملی واقعہ ہے کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں کہ عقلی تخیل کی بناء پر اس میں کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نکالی جاسکے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ تم نماز میں دعائیں کرو اب دعا تو انسان اسی چیز کی کرتا ہے میں کی اسے ضرورت ہو اور یہ ضروری نہیں کہ اسکی ہر ضرورت قرآنی الفاظ سے ہی ظاہر ہو اسی طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ اپنے رب کی تیج کرد اب لازماً جو اس حکم کی تعمیل کریگا وہ بصورت تکلم اسے بیان کریگا۔غرض یہ سوال بھی محض ایک عقلی ڈھکوسلے پر مبنی ہے کہ نماز کے سارے الفاظ قرآنی ہوں غیر قرآنی کوئی لفظ نہ ہو آخر یہ قرآن کریم کی کیس آیت میں لکھا ہے کہ شروع سے لیکر آخر تک نماز میں صرف قرآن کریم کی آیات ہی پڑھتے پہلے جاؤ۔قرآن کریم میں تو صرف استفدر ہے کہ نماز میں قرآن بھی پڑھو۔سو ہر مسلمان اس حکم کو مانتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اور قرآن کریم کے کسی حصہ کا نماز میں پڑھنا فرض جانتا ہے۔قرآن کریم میں کہیں نہیں کھا ہے کہ نماز میں صرف ایک سجدہ کیا جائے بلکہ حکم یہ ہے کہ ناز میں سجدہ کرد