فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 42 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 42

۴۲ بنی نوع انسان کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بن جاتا ہے اور ملک و ملت کا وہ ایک زیادہ فائدہ بخش جزو بن جاتا ہے اور جو عمل اپنے اندر یہ خوبیاں رکھتا ہو مادی اشتغال کی کثرت کے زمانہ میں اس کی ضرورت کم نہیں ہوتی بلکہ اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔- نماز کے پانچ اوقات مقرر کرنے میں یہ حکمت بھی ہے کہ :۔ز أنا سورج نکلنے کے بعد انسان دنیا کے کاروبار میں مصروف ہو جاتا ہے اور دوپہر کے وقت وہ کچھ ستانے اور کھانے پینے کی ضرورت محسوس کرتا ہے اس وقفہ میں یاد الہی کیلئے بھی تھوڑا سا دقت رکھ دیا تا کہ انسان کا روبار کی توفیق پر اپنے خدا کا شکر بجالائے اور آئندہ کے لئے مزید برکات حاصل کرنے کی دعا کر سکے۔یہ زوال کا وقت انسان کو اس طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ جس طرح سورج کی چمک میں فرق آنے لگا ہے اسی طرح انسان کی جوانی بھی زوال کی زد میں ہے اور اس کا قلب بھی غفلت کے نزنگ سے اپنی آب کھو سکتا ہے۔اس لئے انسان کو اس تغیر سے سبق سیکھنا چاہیئے اور روشنی اور خوشحالی کے اس منبع کی طرف اسے توجہ کرنی چاہیئے جس پر کبھی زوال نہیں آتا تا کہ اس کی روح زوال کے اثرات سے محفوظ رہے اور اس کی جسمانی صحت بھی قائم رہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ ظہر کے وقت رحمانی آسمان کے درواز سے کھولے جاتے ہیں اور صبح سے دوپہر تک کے اعمال اور پر کو اٹھائے جاتے ہیں۔ایسے وقت میں نما نہ روحانی صعود کا موجب ہے اور اپنے لئے ایک اچھی شہادت مہیا کرتا ہے۔(ii) عصر کے وقت کا دوبارہ سمیٹنے کی فکر ہوتی۔۔اس لئے مصروفیت اپنی انتہا ہوتی ہے۔مختلف امور انسانی توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔اس وقت میں نماز مقریہ کرنے سے یہ ثابت کرنا ہے کہ جو خدا کا ہے وہ ایسی حالت میں بھی اپنے رب کو نہیں بھونتا اور سب باتوں سے اپنی توجہ ہٹا کر اُسی کی طرف اپنی توجہ پھیر لیتا ہے۔در مختلف روگوں کے باوجود اپنے خُدا کے حضور جا حاضر ہوتا ہے۔پھر یہ وقت تفریح اور کھیل کود کا ہے۔اس وقت میں نماز کا حکم : سے گراد پر متوجہ کیا کہ انسان کو بے اعتدالی اور ہے راہروی سے ہر حال میں بچنا چاہیئے اور کھیل میں اپنے اصل فرائض سے غافل نہیں ہو جانا چاہیے ، نیز اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ آسمانی سورج کی طرح انسانی زندگی کا آفتاب بھی رفتہ رفتہ ڈھل رہا ہے اور غروب کے قریب پہنچنے والا ہے اس لئے اس فرصت کو غنیمت سمجھنا چا ہیئے اور اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیئے۔