فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 41 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 41

ہے اور اس طرح سے انسان دنیا کے کاموں میں مصروف رہنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا اور دنیا میں رہ کر بھی وہ اسے علیحدہ رہتا ہے اور " دست در کار دل با یارہ کی مثل اس پر صادق آنے لگتی ہے۔۳ - سچی محبت ہمیشہ اپنے ساتھ بعض ظاہری علامات بھی رکھتی ہے اور محبت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اٹھتے بیٹھتے اپنے محبوب کا ذکر کرتا ہے اور اس کی یاد اپنے دل میں تازہ رکھتا ہے جب کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو یاد کر لیتا ہے تو اس کی محبت دل میں تازہ ہو جاتی ہے اور اس کی صورت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔نماز بھی اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لے اور نماز کے لئے کھڑا ہو جائے۔۔نماز کے لئے متعدد اوقات مقرر کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ انسان پر جتنی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔اتنی ہی شدت سے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی اُسے بار بار مشق کرائی جاتی ہے تاکہ یہ اطمینان رہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس کا حکم ماننے کے لئے پوری طرح سے مستعد اور تیار ہیں۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں مشاغل اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اتنا وقت نمازوں کے لئے نکالنا مشکل ہے۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر نماز کی غرض محبت الہی کی آگ بھڑکا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے سہولت بہم پہنچانا اور اس کے لئے مشق کرتا ہے تو جس زمانہ میں مشاغل بڑھ جائیں اس زمانہ میں نمازہ بار بار پڑھنے کی اہمیت بڑھ جانی چاہیے کیونکہ ظاہر ہے کہ جس وقت مقصد کو بھلا دینے کے سامان زیادہ ہوں گے اس وقت مقصد کی طرف بار بار توجہ دلانے کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔پس اس زمانہ میں اگر دنیوی مشاغل بڑھ گئے ہیں تو نمسانہ کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے پھر اگر نماز صرف اظہار عقیدہ کا ایک ذریعہ ہوتی تب تو یہ اعتراض کچھ وزن بھی رکھتا مگر جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ نمازہ کی غرض صرف اقرار عبودیت نہیں بلکہ اس کی غرض انسانی نفس میں وہ استعداد پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے وہ مادی دنیا سے اڑ کر روحانی عالم میں پہنچ سکے اور اس کا دباغ جسمانی خواہشات میں ہی الجھ کر نہ رہ جائے بلکہ اعلیٰ اخلاق کو حاصل کرے کیونکہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق نمازہ کی مدد سے انسان بدیوں اور بدکرداریوں سے بچتا اور اعلیٰ اخلاق حاصل کرتا ہے اور اس طرح اس کا وجود