فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 34
۳۴ نماز سے باہمی تعاون اجتماعی اور قومی ضرورتوں کا احساس ترقی کرتا ہے اس کے ذریعہ جماعتی قوت و عظمت اور قومی شان و شوکت کی معنوی استعداد نشو و نما پاتی ہے۔نماز سے مساوات پیدا ہوتی اور باہمی ہمدردی کا جذبہ بڑھتا ہے۔نماز میں تلاوت قرآن کریم کا موقعہ میسر آتا ہے جو حلاوت ایمانی کا باعث بنتا ہے۔نماز کے ذریعہ یاد الہی اور ذکر وفکر کی عادت پیدا ہوتی ہے۔یہ حمد و ثنا تسبیح وتحمید اور اللہ تعالیٰ کی گوناگوں نعمتوں پر اظہار تشکر کا ذریعہ ہے۔نماز میں دُعائے مستجار کے مواقع بکثرت میستر آتے ہیں خصوصا سجدہ قرب مقام اور دُعا کے لئے موزوں تر حالت ہے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد میں اسی طرف اشارہ ہے۔نماز سے انسانی دل کو طراوت اور عقل کو جلا ملتی ہے۔نور بصیرت بڑھتا ہے اور اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔نماز سے حرارت ایمانی بڑھتی ہے اور محبت الہی جوش مارتی ہے۔نما نه روحانیت کا سر چشمہ ہدایت کا منبع معرفت الہیہ کا ذریعہ اور برکات سماویہ اور انوار روحانیہ کا مہبط ہے۔نماز کامیابی کی کلید تینگی اور آشفتہ حالی کا مداوا حزن و ملال کا تریاق اور یاس و حسرت میں مسرت و شادمانی کا مژدہ جانفزا ہے مضطرب و مضطر محزون و مدیون مجبور و معذور اور مظلوم و مہجور کے دل کو حقیقی راحت اور دردمندانہ اور متضرعا نہ دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔غرض ایک مومن کے سبھی کام نماز اور دکھا سے ہی بنتے اور سنورتے ہیں۔نمازہ انسان کو روحانیت کے علی معراج تک پہنچا دیتی ہے۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم الصلوة معراج المؤمن یہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔نمازہ سے انسان پر رویائے صالحہ۔الہامات و مکاشفات اور مکالمات و مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلتے ہیں۔اللہ تعالٰی سے تعلق بڑھتا ہے۔یہاں تک کہ تبتل نام ہو کر انسان خدا کا ہو جاتا ہے۔اور خُدا میں جا ملتا ہے سیہ نماز میں طریقت حصول حضور سوال ہے : کبھی نماز میں لذت آتی ہے اور کبھی لذت جاتی رہتی ہے۔اس کا کیا علاج ہے ؟ له يسلم كتاب الصلواۃ باب ما يقال في الركوع : : تفسیر کبیر رازی مت به جلد اول : سه : عفوظات ص۴۳۲ :