فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 33
۳۳ فقہ ہر اس مسئلہ علمیہ کو کہتے ہیں جو ظاہر پر دلالت کرے اور اس کے ساتھ ہم اس کے باطنی اثرات کو سوچیں۔فکر مسئلہ فلسفہ کے لئے آتا ہے اور فقہ مسئلہ علمیہ کے لئے۔- عقل :- اسی بھی اگر صحیح کام لیا جائے تو انسان کے اندر ایک ایسا جذبہ پیدا ہوتا ہے ہو اُسے بُرے اور بھلے کی تمیز کروا دیتا ہے اور برائیوں سے روک دیتا ہے جیسے موٹر کی بریک ہوتی ہے عقل بھی انسانی دماغ کی بریک ہے۔- ابصار :- قرآن کریم میں آتا ہے۔افلا تبصرون اس کے معنے ہیں روحانی آنکھ سے دیکھنا اس سے بھی بڑی بڑی باتیں نکلتی ہیں جن سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔A ۱۰۰۹ - رویت و نظر -:- یہ دونوں قریب المعنے الفاظ ہیں لیکن ان میں فرق بھی ہے۔جہانتک ظاہر معنوں کا سوال ہے یہ آپس میں مشترک ہیں اور دیکھنے کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔لیکن ان میں فرق یہ ہے کہ رویت اس دیکھنے کو کہتے ہیں جن کے ساتھ شعور قلبی شامل ہو اور نظر اُس دیکھنے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ قوت فکر یہ شامل ہو۔غرض تفکر تشکر تذکره شعور بعقل و دانش رویت اور نظریہ اس اسلامی عبادت کے حصے ہیں جنہیں قرآن کریم نے الگ الگ موقعوں پر بیان کیا ہے دنیا کا اور کوئی مذہب نہیں جس میں اس عبادت کا ایک حصہ بھی بیان ہوا ہو : خلاص یا در کو حقیقی نماز وہی ہے جس کی اثرات و برکات نماز پڑھنے والا خود مشاہدہ کر سے اور اپنی ذات میں ایک پاک تبدیلی محسوس کر ہے۔نمانہ بدیوں اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔یہ برائیوں سے بچنے کا قلعہ ہے خواہشات نفسانیہ کی محافظ۔دل کی غفلت اور شوخی نفس امارہ کا عمدہ اور کارگر علاج ہے۔تزکیہ نفس اور اصلاح احوال کا موجب ہے۔نماز وقت ضائع کرنیکی عادت سے بچاتی اور وقت کی قدرو قیمت کا شعور پیدا کرتی ہے۔نماز سے باقاعدگی اور متعدی پیدا ہوتی ہے اور انسان کی عادات و خصائل اور اسکے دنیوی کام کاج میں ایک خاص قسیم کا نظم اور اعتدال پیدا ہوتا ہے۔صبر و استقامت عزم و استقلال اور مصائب و مشکلات کے حل کی توفیق ملتی ہے۔نماز سے انکساری و خاکساری - تواضع و بردباری بخشوع طبیعت خضوع جوارح اور حضو نفس کی نعمت عطا ہوتی ہے۔ل - قصص ع ، زخرف :