فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 371 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 371

}; جواہے :- زکواۃ تو کم از کم مالی صدقہ ہے جو ہر صورت میں خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو صاحب نصاب کو ادا کرنا اور خلیفہ وقت کی وساطت اور اجازت سے خرچ کرنا ہوتا ہے۔لیکن چندہ کی بنیاد جماعتی فیصلہ اور ضرورت پر ہے۔اگر مسلسل کو ضرورت ہے تو چندہ لگے گا ورنہ نہیں لگے گا۔ان وجوہات کی بناء پر چندہ میں زکواۃ محسوب کرنا درست نہیں۔اور مرکزی بیت المال کی ہدایت بھی یہی ہے۔مصارف زكوة شروع اسلام میں اسلامی حکومت کے محصل جو زکوۃ وصول کرتے وہ مقامی ضروری اخراجات کے لئے مناسب رقم چھوڑ کر باقی مرکزی بیت المال میں پہنچا دیتے اور مرکزی بیت المال اللہ تعالیٰ کے رسول اور آپ کے بعد خلیفہ وقت کی ہدایت کے مطابق مقررہ مصارف میں اسے خرچ کرتا تھا۔تاہم اصولاً زکواۃ کی آمدن حسب گنجائش ان تمام اخراجات کے لئے خرچ ہو سکتی ہے جو حکومت کو محتاج اور ضرورت مند معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔اگر ہم حکومت اسلامیہ کی وہ ذمہ داری مائیں جن کے پیش نظر حضرت عمر نے سب کے گزارے کے سامان بہم پہنچنے کے انتظامات کئے تھے تو اس کے ساتھ یہ بھی مانا پڑے گا کہ زکواۃ حکومت کی مختلف قسم کی ذمہ داریوں پر خرچ کی جاسکتی ہے۔گو اس کے پہلے اور ترجیحی حقدار غرباء ہیں۔بہر حال زکواۃ کہاں خرچ کی جائے اس کے مستحق کون لوگ ہیں اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اصولی رہنمائی فرمائی ہے : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ تُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّتَابِ وَالْغَرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيضَنَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَاللهُ عَلِيْمٌ حَكِيمُ صدقات تو صرف فقراء اور مساکین کے لئے ہیں اور ان کے لئے جو ان صدقات کے جمع کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں نیز ان کے لئے جن کے دلوں کو اپنے ساتھ له - التوبة :۔