فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 366 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 366

۳۶۶ متفرق مسائل مختلف نصاب والے اموال اگر کسی کے پاس مختلف قسم کا الگ الگ نصاب زکواۃ والا مال ہو لیکن ان میں سے کوئی بھی بجائے خود نصاب کے مطابق نہ ہو بلکہ کم ہو خواہ ان سب کی مجموعی قیمت ہزاروں تک پہنچتی ہو تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔مثلاً کسی کے پاس چار اونٹ ۲۹ گائیں ۳۹ بکریاں ۵۱ تولہ چاندی ہے تو کسی پر زکوۃ واجب نہ ہوگی اور نہ مجموعی قیمت کی بناء پر زکواۃ وصول کی جائے گی کیونکہ ان میں سے ہر مال کا نصاب زکواۃ الگ ہے اور وہ اسی مال کے ساتھ مختص ہے۔سال سے کیا مراد ہے زکواۃ سے وجوب کے لئے سال سے قمری سال مراد ہے لیکن شروع سال سے ماہ محرم مراد نہیں بلکہ جس مہینے نصاب کے برابر کوئی مال کسی کی ملکیت۔قبضہ اور تصرف میں آئے گا اس مال کے لئے سال اس مہینہ سے شروع ہوگا اور بارہ قمری مہینے گزرنے پر اس مال میں زکواۃ واجب ہو گی۔اگر سال گزرنے سے پہلے پہلے مال کی نوعیت بدل گئی تو سال بھی بدل جائے گا۔یعنی سال اس ماہ سے شروع ہو گا جس میں یہ نیا مال قبضہ و تصرف میں آیا ہے مثلاً ایک شخص کے پاس ربیع الاول میں دس ہزار روپیہ آیا چھ ماہ گزر سے کہ شعبان میں اس نے دس ہزار روپیہ کے مویشی خرید لئے تو اب اس مال پر زکوۃ کی اغراض کے لئے سال ماہ شعبان سے شروع ہو گا۔اگر یہ مویشی سال بھر یعنی اگلے " رجب تک اُس کے پاس ہے تو ان پر زکواۃ واجب ہوگی اور اگر سال گزرنے سے پہلے پہلے اُس نے مویشی پیج دیئے اور اس روپیہ سے تجارت کی نیت سے کراکری خرید لی تو پھر سالی اس ماہ سے شروع ہو گا جس میں اس نے کراکری خریدی ہے۔اس طرح اگر سال کے دوران میں مال کی نوعیت بدلتی جائے اور کسی مال پر سال گزرنے نہ پائے تو اس سرمایہ پر زکواۃ واجب نہ ہوگی۔