فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 352
۳۵۲ ۲ - بچت اور زائد از ضرورت مال میں سے خرچ کرنا۔اس کی آگے دو قسمیں ہیں :- الفص :- طوعی جرح جس کی تعیین انسان اپنی مرضی سے کرتا ہے جیسے نفلی صدقات جنہیں انسان کے اندرونی تقویٰ کے فیصلہ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔اسی طرح شکرانہ اداء احسان - تحائف اور معاشرتی تعلقات کی بہتری کے لئے مختلف قسم کے اخراجات بھی طوعی خرچ میں شامل ہیں۔ب : لازمی خرچ جسے ایک مسلمان عمومی لحاظ سے اختیار کرنے کا پابند ہے جیسے اجتماعی لازمی چندہ جات جو عام ملی نظام اور اشاعت اسلام کے کام کو جاری رکھنے کے لئے خلیفہ وقت کی طرف سے بلائی گئی مجلس مشاورت نے تجویز کئے ہوں اور خلیفہ وقت نے ان کی منظوری دی ہو۔ج :۔حکومت کی طرف سے عائد کردہ محصولات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں۔د: علاوہ ازیں نفقه اقارب ، حق الخدمت ، صدقة الفطر - ندید کفارہ اور نذر کے اخراجات بھی لازمی خرچ کئے ہی حصے ہیں۔: اللہ تعالٰی کی راہ میں ایک لازمی حرچ وہ ہے جس کا خصوصی اور اصطلاحی نام زکواۃ ہے اور اسی خرچ کی تفصیل اس وقت پیش نظر ہے :- زکواۃ بہت میں سے لازمی خرچ کی اہم ترین قسم ہے کیونکہ یہ وہ کم سے کم انفاق فی سبیل اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر صاحب نصاب مسلمان کے لئے ضروری ہے۔معاشرہ کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو ہر حال میں یہ خرچ لابدی ہے۔یہی وجہ ہے کہ زکاۃ کی ادائیگی اس وقت بھی ضروری ہوگی جب کہ معاشرہ کی تمام قومی اور انفرادی ضرورتیں دوسرے ذرائع سے باحسن وجوہ پوری ہو رہی ہوں کیونکہ یہ مالی هر چه در اصل اس غرض کیلئے عائد کیا گیا ہے تاکہ افراد کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت رہے۔اکتنازہ بجل اور حرص کی جڑیں کٹتی رہیں۔اور ارشاد ربانی کي لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ منکم یہ کا مقصد پورا ہو۔اور معاشرہ ظالم اور بخیل افراد کی احتیاج سے محفوظ ہو جائے۔- ے : - الحشر و تر جمہ : یعنی مال تم میں سے مالداروں کے اندر چکر نہ کھاتا پھر سے :