فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 351
۳۵۱ اسلام نے جہاں انفاق مال کی پرزور تحریک فرمائی وہاں اس کی غرض بھی متعین کر دی یعنی خرچ کرنے والے کا مقصد محض رضائے الہی ہو کوئی دنیوی غرض اُس کے پیچھے کارفرمانہ ہو ورنہ خود غرضی۔لالچ۔ناجائز کمائی کی حرص اور دوسروں پر احسان جتانے کی بد عادت سے نجات مشکل ہوگی اور وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا جب کسی لئے اپنے مال سے خرچ کرنے کی اتنے زور کے ساتھ تحریک کی گئی ہے۔انفاق فی سبیل اللہ کے نظام کو دوام بخشتے اور بہولت جاری کرنے کے لئے اسلام نے کفایت شعاری اور تکلف سے پاک سادہ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے اور اسراف کی راہوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے کیونکہ تکلفات کی راہیں بے شمار ہیں اگر انسان ان میں پڑ جائے تو گنج قارون بھی ناکافی ہے اور جب ذاتی اخراجات اتنے بڑھے ہوئے ہوں اور انسان تکلفات کا شکار ہو تو انفاق فی سبیل اللہ کے لئے اس کے دل میں کی بشاشت آئے گی اور اس کے لئے وہ کیسے جرات کر سے گا۔انفاق فی سبیل اللہ کی اقسام اسلامی اصطلاح میں انفاق فی سبیل اللہ کا دوسرا نام صدقات ہے اور صدقات کی کئی اقسام ہیں مثلاً :- ۱ - قومی اور اجتماعی ضروریات کے لئے مال خرچ کرنا اسکے لئے ضرورت شرط ہے اگر اجتماعی خطرات منڈلا رہے ہوں اور دینی قیادت مطالبہ کر سے کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ لے آئے تاکہ ان خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔تو سب کا فرض ہو جاتا ہے کہ جو بھی جسکی پاس ہے وہ لاکر پیش کر د سے ارشادِ اللَى إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ انْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبہ (1) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔: لا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ - (الانعام : ۱۳۲) اور اسراف سے کام نہ لو کیونکہ وہ اسراف سے کام لینے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ے: ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو (اس وعدہ کے ساتھ خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی :