فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 350 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 350

۳۵۰ اصل حق سے محروم نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم کی آیت وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ السَّائِلِ وَالْمُحْرُومِ الدرلیت: ۲۰) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے پس مالداروں پر فرض ہے کہ ان کے اموال میں جو دوسروں کا حق ہے وہ بخوشی اور پوری فراخ دلی کے ساتھ اسے ادا کریں۔اس میں ان کی اپنی بھلائی اور ان کی تحویل میں جو مانی ہے اس کی حقیقی حفاظت کا راز مضمر ہے۔غرباء اور ناداروں کو یہ حکم ہے کہ وہ دوسروں کے مال کو حرص اور لالچ اور بغض و عناد کی نیت سے نہ دیکھیں اور نا جائز طریق سے اُسے ہتھیانے اور اس پر زبر دستی قبضہ کرنے کی راه اختیار نہ کریں۔دوسری طرف مالداروں کو یہ حکم ہے کہ وہ معاشرہ کے غرباء اور ناداروں کا خیال رکھیں اور ضروریات زندگی خوراک - لباس اور رہائش وغیرہ کے مسائل میں انہیں ایسے حال میں نہ رہنے دیں جو نا گفتہ بہ ہو اور اس میں انہیں تنگی اور وقت کا سامنا کرنا پڑے۔پس اگر امراء اور مالدار یہ چاہتے ہیں کہ غرباء اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو مانیں جو دوسروں کے مال پر دست درازی نہ کر نے کے بارہ میں انہیں دیا گیا ہے تو ان کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو مانیں اور صدق دل سے اس پر عمل کریں جو ادا کر دنیا سے غربت اور احتیاج کو مٹانے اور اُسے کم کرنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرنے کے بارہ میں دیا گیا ہے۔اس وقت دنیا کو کئی معاشی مسائل درپیش ہیں لیکن ب سے بڑا مسئلہ غیر مساوی تقسیم دولت کا ہے۔ایک طبقہ جہاں انتہائی امیر ہے وہاں ایک طبقہ انتہائی غریب اور خستہ حال ہے۔اس غیر طبعی تفاوت کی وجہ سے دونوں طبقوں میں منافرت اور معاشرت پیدا ہو رہی ہے اور اس طرح ان میں حسد - بغض۔کینہ اور انتقام جیسے مکروہ جذبات بار بار بحرانی کیفیات اور انقلابی شور و شر کا باعث بنتے رہتے ہیں اور دنیا نے اب تک اس سے نجات نہیں پائی۔ایک طرف اگر سرمایہ دارا اپنے وسائل کے بل بوتے پر کثیر دولت جمع کر رہے ہیں تو دوسری طرف غریب اپنی محسنت فروخت کر نے کی فکر میں مارے مارے پھرتے ہیں اور ان کی محنت کی صحیح قیمت دینے والا ملنا ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے۔امیر و غریب کی اس وسیع خلیج کو پاٹنے کا بہترین ذریعہ انفاق فی سبیل اللہ ہے۔انفاق فی سبیل اللہ کی عادت سے یہ احساس اُجاگر ہوتا اور جلد یا تا ہے کہ ہر ایک کو اس کا صحیح حق ملنا چاہیئے اور کسی کو لوٹ مار یا حق تلفی اور محرومی کا احساس نہیں ہونے دینا چاہیئے۔ے۔اور ان کے مالوں میں مانگنے والوں کا بھی حق تھا اور جو مانگ نہیں سکتے تھے اُن کا بھی حق تھا :