فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 345 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 345

۳۴۵ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- مَنْ خَرَجَ حَاجَا اَوْ مُعْتَمِدًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهِ كَتَبَ اللهُ لَهُ اَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاةِ وَالْمُعْتَمِرِه یعنی جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کی نیت سے نکلے اور پھر راستہ میں مر جائے تو اللہ تعالٰی اس کی نیت اور عمل کے مطابق اُسے غازی - حاجی یا عمرہ کرنے والے کا ثواب دے گا۔رہا دوسرے کو اس کی طرف سے حج کیلئے بھیجوانے کا مسئلہ تو یہ جائز اور باعث ب ہے لیکن ضروری نہیں۔اس بارہ میں علماء حنفیہ لکھتے ہیں : لا يجب الاحجاج عَنْهُ بِدُونِ الْوَصِيَّةِ " له یعنی مرنے والے کی وصیت کے بغیر اس کی طرف سے حج کروانا وارثوں پر واجب اور ضروری نہیں۔ہاں اگر وہ وصیت کر جائے اور اس کے ترکہ کے تیسرے حصہ سے یہ وصیت پوری کی جا سکتی ہو تو پھر وارثوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسکی وصیت کے مطابق کسی نیک متقی کو حج کے لئے مکہ مکرمہ بھجوائیں۔سوال : کیا کوئی مسلمان کسی غیرمسلم دوست کی خواہش کے پیش نظر اس کے خرچ پر حج کر سکتا ہے ؟ جواب : عبادات اسلامی یعنی نماز، روزہ، حج وغیرہ کے فرض ہونے کی بعض شرائط ہیں۔اگر یہ شرائط موجود نہ ہوں تو ان عبادات کا بجا لانا فرض نہیں ہوتا۔مثلاً حج کے فرض ہونے کے لئے مالی استطاعت شرط ہے جس شخص کے پاس مال ہی نہیں اس پر حج بھی فرض نہیں ہیں ایسے شخص کے فرض حج ادا کرنے کے معنے ہی کچھ نہیں رہتے۔رہا نفلی حج کا ثواب تو یہ ایک الگ صورت ہے جس کا براہ راست اسلام کے اس مخصوص رکن سے کچھ تعلق نہیں۔ہاں شعائر اللہ کی زیارت اور مقامات مقدسہ میں جا کہ دعا کرنے کا ایک موقع مل جاتا ہے یہ ثواب کے کام تصور میں آسکتے ہیں۔لیکن جہاں تک حج کی فرضیت کا تعلق ہے۔فرض اُسی کا ادا ہو گا جس پر حج فرض ہے۔پس بنیادی طور پر یہ سوال ہی غلط ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کو حج کے لئے بھجوائے تو اس کا ثواب مسلمان کو پہنچے گا یا نہیں۔جب اس مسلمان پر چھ فرض ہی نہیں تو فرض عبادت کو بجالانے اور اس لے : - مشكوة ص ٢٣ : : - تحفة الفقهاء من ٣٣۔٥٣ ا