فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 29 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 29

۲۹ محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللهم صل وسلم وبارك عليه واله بعد دهمه وغمه وحزنه لهذه الامة وانزل عليه انوار رحمتك الى الابد - له نماز اور ذکر الہی نماز کی اپنی کا جمعہ ہے اور ا تعالی کا ذکر ایسی چیز ہے جو قلوب و اطمینان عطا کرتا ہے جیسا کہ فرمایا الا بذکر الله تطمئن القلوب۔پس جہاں تک ممکن ہو نمازہ میں ذکر الہی کیا جائے اسی اطمینان حاصل ہو گا ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔اگر انسان گھبرا جاتا ہے اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔دیکھو ایک کسان کس طرح پر محنت کرتا ہے اور پھر کسی صبر اور حوصلہ کے ساتھ باہر اتنا غلہ کھیر آتا ہے بظاہر دیکھتے والے یہی کہتے ہیں کہ انھی دانے ضائع کر دیئے لیکن ایک قت آجاتا ہے کہ وہ ان بکھر سے دانوں سے ایک خرمن جمع کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے۔اسی طرح مومن جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر کے اس کی یاد میں استقامت اور صبر کا نمونہ دکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس پر مہربانی کرتا ہے اور اُسے وہ ذوق و شوق اور علم و معرفت عطا کرتا ہے جس کا وہ طالب ہوتا ہے یہ بڑی غلطی ہے کہ جو لوگ کوشش اور سعی تو کرتے نہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ ہمیں ذوق و شوق اور علم و معرفت اور سکینت و اطمینان قلب حاصل ہو جبکہ دنیوی اور سفلی امور کے لئے محنت اور صبر کی ضرورت ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کو پھونک مار کر وہ کیسے پا سکتے ہیں۔یہیں خُدایا نی اور خُدا شناسی کے لئے ضروری امر یہی ہے کہ انسان عاؤں میں لگا رہے۔زمانہ حالت اور بزدلی سے کچھ نہیں ہو گا۔اس راہ میں مردانہ والہ قدم اٹھانا چاہیئے اور ہر قسم کی تکلیفوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کو مقدم کرلے اور گھیرائے نہیں۔پھر امید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل دستگیری کرے گا اور اطمینان عطا فرمائے گا۔ذکر کا عام تعلق غیر معین عبادت سے ہے۔یہ عبادت غیر معین صورت میں اس لئے رکھی کہ معین صورت کی نماز تو ہر وقت ادا نہیں ہو سکتی لیکن غیر معین صورت کی نماز یعنی عبادت ہر وقت ادا کی جاسکتی ہے۔سوتے جاگتے۔چلتے پھرتے ہر حالت میں ذکر ہو جاتا ہے کیسی شخص نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ اگر ہم عبادت ہی کرتے رہیں تو ہم کام کیسے کریں ؟ انہوں نے فرمایا دوست در کار دل بایار اپنے کاموں کو بھی کرتے جاؤ اور ذکر الہی بھی کرتے رہو۔پیشے کرو ، تجارتیں کرو۔دوسرے دنیوی کاروبار غرض ہر پیشے والا قبیح کو بھی جاری رکھ سکتا ہے اور اپنا کام بھی کر سکتا ہے لیکن نمازیں ہر وقت نہیں پڑھی جاسکتیں ہم کھڑے ہوں تب بھی سبحان اللہ کہ سکتے ہیں۔تیر رہے ہوں تب بھی بركات الدعاما - روحانی خزائن جلد 4 : :- الرعد : ۲۹ :