فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 341
میں چالیس فرض نماز ادا کرنا باعث ثواب جزیل ہے۔حضور علیہ السلام کے روضہ مبارک کے سامنے کھڑے ہو کہ درود شریف پڑھنا اور حضور کے عالم گیر اور دائمی فیضان کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنا۔خاص روحانی کیفیت اور وجدانی کمال کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ ہر سچے مسلمان کو ان برکات سے حصہ لینے کی توفیق بخشے اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے گھر اور دوسرے مقامات مقدسہ کی زیارت سے روکتے ہیں اور خُدا کی وعید سے نہیں ڈرتے۔اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور اس ظلم عظیم سے تو بہ کرنے کی توفیق بخشے۔آمین۔فتاوى سوال : - حج کے موقع پر جو رمی جمار کرتے ہیں اس کی کیا مصلحت اور فلسفہ ہے ؟ جواہے :۔حج کے اکثر احکام تصویری زبان کا رنگ رکھتے ہیں اور رمی جمار میں یہی حکمت کار فرما ہے۔مثلاً رمی جمار تصویری زبان میں شیطانی قوتوں اور ان کے وسادس سے اظہار بیزاری اور حملہ آور فاسد خیالات جن سے انسان کو اکثر واسطہ پڑتا ہے کا دفیعہ ہے اس کی ایک مثال نماز میں بھی ہے جیسے تھی۔یعنی لا کے کہتے وقت شہادت کی انگلی اٹھاتے ہیں اور اثبات کہتے وقت گراتے ہیں۔اور حدیث میں آیا ہے کہ یہ رفع سبابہ شیطان جمار کے یعنی الا ان لئے تیز نیزہ سے بھی زیادہ کاری ہے۔اسی طرح رمی جمار بھی شیطان رجیم سے بیزاری کی علامت ہے۔ایسا ہی نمانہ کے شروع میں اللہ اکبر کہتے ہوئے کانوں تک ہاتھ اُٹھانا بھی تصویری رنگ رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- " عبادت کے دو حصے تھے ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈر نے کا حق ہے۔دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کہ سے جو محبت کرنے کا حق ہے۔یہ حق دو ہیں جو اللہ تعالٰی اپنی نسبت انسانی سے مانگتا ہے۔اسلام نے ان دونوں حقوق کو گورا کرنے کے لئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خُدا کے۔خون کا پہلو رکھا ہے۔اور محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے۔حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں بعض وقت شدت ه مند احمد صا والطبراني في الاوسط :