فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 336
۳۳۶ ، لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامِ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ وذيكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الحَرَامِط له پھر جب تم امن میں آجاؤ تو (اس وقت) جو شخص عمرہ کا فائدہ (ایسے) حج کے ساتھ ملا کیا اٹھائے تو جو قربانی بھی آسانی سے مل سکے دکر دے) اور جو کسی قربانی کی بھی توفیق نہ پائے (اس پر تین دن کے روزے تو حج رکے دنوں) میں (واجب) ہوں گے اور سات (روزے) جب رائے مسلمانو!) تم (اپنے گھروں کو واپس رکوٹ) آؤ۔یہ پورے دن ہوئے یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس رہنے والے نہ ہوں۔اس آیت میں حج تمتع کا ذکر ہے جس کی تشریح یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں سب سے پہلے صرف عمرہ کا احرام باندھے اور مکہ پہنچ کر عمرہ کرے اس کے بعد احرام کھول دے۔پھر آٹھویں ذوالحجہ یا اس سے پہلے حج کا احرام باندھے اور اسی طریق کے مطابق حج کرے جو اد پر بیان ہو چکا ہے۔گویا حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کرنا اور اس کے بعد نئے احرام کے ساتھ حج کرنا تشیع کہلاتا ہے۔تمتع کے معنے فائدہ اٹھانے کے ہیں۔حج کرنے والا ایک ہی سفر سے دو فائد سے اُٹھاتا ہے عمرہ بھی کرتا ہے اور حج بھی ادا کرتا ہے رحج مفرد کرنے والے کے لئے دسویں ذو الحجہ کو قربانی ضروری نہ تھی لیکن حج تمتع کرنے والے کے لئے قربانی ضروری ہے۔اس قربانی کو دم تمتع کہتے ہیں۔اگر قربانی نہ دے سکے تو اس کے بدلہ میں دن روزے رکھے ان میں سے تین حج کے دنوں میں یعنی سات، آٹھ اور نو ذو الحجہ کو۔اور سات روزے واپس گھر آ کر پورے کرے۔۳ - حج قران اسے کہتے ہیں کہ شروع میں عمرہ اور حج دونوں کا اکٹھا احرام باند ھے یعنی حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرتے ہوئے تلبیہ کہے۔اس طرح احرام باندھنے والا جب مکہ پہنچے گا تو سب سے پہلے عمرہ کرے گا۔اسکی بعد احرام نہیں کھولے گا بلکہ اسی احترام کے ساتھ حج کے مناسک بھی ادا کر لیا۔اور جس طرح اس نے عمرہ کا اور حج دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا۔اسی طرح دسویں ذوالحجہ کو دونوں کا اکٹھا ہی احرام کھولے گا۔ن : سورة البقرة : 196 : سه : - مثلا یوں کہے - اللهم إني أُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَيَسِرُ هُمَا لِى ثُمَّ بَارِكْ لِى فِيْهما - ہدایہ ص ۲ باب القرآن :