فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 337
م السلام متمتع کی طرح قران کرنے والے کے لئے بھی قربانی ضروری ہے۔اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو پھر مذکورہ بالا طریق کے مطابق وہ دس روز سے رکھے۔جنایات حج جنایہ کو تاہی اور قانون کی خلاف ورزی کو کہتے ہیں۔حج کے خاص قاعدے اور قانون ہیں جو شخص ان کی خلاف ورزی کرے گا وہ زیر مواخذہ ہے جس کی تفصیل کتب حدیث و فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔مختصراً یہاں کچھ کوتاہیوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ ۱ - محرم اگر کسی عذر کی بناء پر سلے ہوئے کپڑے پہن سے یا جوئیں پڑجانے کی وجہ سے اُسے سرمنڈوانا پڑے تو اس کو تا ہی کے تدارک کے طور پر وہ فدیہ ادا کرے۔فدیہ سے مراد روزے رکھنا یا غرباء کو صدقہ دینا یا قربانی ذبح کرتا ہے۔فَمَن كَانَ مِنكُمْ مَّرِيضًا اَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ أَوْصَدَقَةٍ اوَنُسُكِ۔تدارک کے لحاظ سے فدیہ کا مفہوم بالکل ویساہی ہے جیسے نمازمیں غلطی کا تدارک سجدہ سہو کرنے سے کیا جاتا ہے۔۲ مجرم اگر شکار کرہ سے تو بطور کفارہ شکار کی مثل پالتو جانور ذبح کرے مثلاً ہرن مارا تو منی کے مذبح میں بکرایا چھترا ذبح کی ہے۔اور اگر شتر مرغ کا شکار کیا ہے تو اونٹ ذبح کرے۔اگر جانور ذبح نہ کر سکے تو چھ مساکین کو کھانا کھلائے۔یہ بھی نہ کر سکے تو تین روزے سے رکھے۔بدلہ کا فیصلہ سمجھدار اور جانور کی قدر و قیمت جاننے والے دو ماہرین سے کرایا جا سکتا ہے۔فرمایا۔البقره : ۱۹۷ سے : محرم کے پاس اگر ان سلے کپڑے نہ ہوں اور نہ وہ باآسانی مہیا کر سکتا ہو تو وہ سے ہوئے کپڑے پہن سکتا ہے۔اس صورت میں فدیہ بھی ضروری نہ ہوگا۔رَوَى عَن ابن عباس أَنَّ النَّبِي صلی الہ علی وسلم قال اذاع يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبِسُ السَّرَاوِيلَ وَإِذْ المْ يَجِدَ النَّعَلَيْنِ فَلْيَنسِ الْخَطَيْنِ واليقطعها اسفل من الكَعْبَينِ - (ابوداود کتاب الحج باب ما يلبس المحرم قد بدا به کتاب الحج حب ) : 149 ه :- عن عبد الله بن معقل قال قعدت الى كعب بن عجرة في هذا المسجد يعني مسجد الكوفة خالية عن ندية من صيام فقال حملت الى النبي صلى الله عليه وسلم والعمل يتناثر على وجهى فقال ما كنت الى أن الجهد بلغ بك هذا - اما تجد ثالاً قلت لا قال صم ثلثة ايام او اطعم مينة مساكين نصف صاع من طعام و احلق راسك فنزلت فى خاصة - انجارى كتاب التفسير باب توله قد کان منکم و مريضا رو به ازى من رأسه من : ستة