فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 327
۳۲۷ وفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ہے اور ہم نے اس یعنی آنکھیں، کا فدیہ ایک بڑی قربانی کے ذریعہ دیدیا۔حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدَى مَعِلَّهُ ه جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچے ؟ میں محل سے مراد منی کا یہی مقام ہے۔عرفات :- مکہ سے شمال مشرق کی طرف قریب و میل کے فاصلہ پر وہ عظیم الشان میدان جہاں 9 ذو الحجہ کو حب حاجی جمع ہوتے ہیں۔اس میدان کو عرفہ یا عرفات کہتے ہیں۔ظہر کے وقت سے لیکر سورج غروب ہونے تک یہاں قیام کیا جاتا ہے جیسے وقوف عرفہ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں :۔فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَتٍ فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْعَرَامِ : له پھر جب تم عرفات سے کو ٹو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔ثُمَّ انتضُوا مِنْ حَيْثُ رَنَاضَ النَّاسُ : له اور جہاں سے لوگ دواپس، کوٹتے رہے ہیں وہیں سے تم بھی واپس کوٹو۔جبل الرحمت بھی اسی میدان کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔مزدلفہ: عرفات سے بجانب منی تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ایک میدان ہے۔مشعر الحرام جو ایک پہاڑی ہے وہ بھی اسی میدان میں ہے۔عرفات سے واپسی پر حج کرنے والے اس میدان میں رات بسر کرتے ہیں اور یہیں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھتے ہیں۔ارذو الحجہ کی فجر کی نماز بھی یہیں ادا کرنی ہوتی ہے۔نما نہ فجر کے بعد مشعر الحرام کے پاس جا کہ بکثرت ذکر الہی کرنے کا حکم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الحَرَامِ مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔مواقیت : مواقیت میقات کی جمع ہے۔میقات سے مراد وہ جگہ ہے جہاں یا اس کے قرب وجوانہ اور محاذ میں اکناف عالم اور دور درانہ کے علاقوں سے حج کی نیت سے مکہ آنے والے احرام باندھتے ہیں۔اور ان مقامات سے آگے احرام باندھے بغیر جانا منع ہے۔احترام سے مراد ایک خاص کی ہے :- ه صفت: ۱۰۸ که : بقره: ۱۹۷ که بقره ۱۹۹ که بقره : ۱۹۷ که بقره ۱۹۹ که بقره ۲۰۰ که بقره ۱۹۹