فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 326
۳۲۶ صفا و مروه مگر میں مسجد حرام کے قریب جنوب کی طرف دو چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔اب کچھ ہموار ہو کر دالان اور چبوترے کی شکل میں ہیں مسجد حرام سے نکلیں تو پہلے صفا پہاڑی آتی ہے۔اس کے بعد مشرق کی طرف ہٹتے ہوئے مروہ کی پہاڑی ہے۔حضرت ہاجرہ نے پانی کی تلاش اور گھبراہٹ کے عالم میں ان پہاڑیوں کے سات چکر لگائے تھے کبھی وہ صفا پر چڑھتیں اور کبھی کروہ کی طرف بھاگ کہ جاتیں اور پھر صفا کی طرف آجاتیں۔اسی اضطراری کیفیت اور اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی یاد میں حج اور عمرہ کرنے والوں کو حکم ہے کہ وہ صفا اور مروہ کے بھی سات چکر لگائیں اس عبادت کو سعی بین الصفاء المروہ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- NNWALA GLAND GE مِن شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّونَ بِهِمَا - له صفا اور مروہ یقینا اللہ کے نشانات میں سے ہیں سو جو شخص اس گھر یعنی کھیہ) کا حج یا عمرہ کرے تو اُسے اُن کے درمیان تیز چلنے پر کوئی گناہ نہیں۔مکہ سے باہر کے مقامات منی : - محمد سے مشرق کی طرف تین میل کے فاصر بیا ایک وسیع میدان ہے اس میدان میں ہی وہ تین مچھر ہیں جن کا نام جمرہ یا شیطان مشہور ہے۔ان تین پتھروں کے نام یہ ہیں :۔جَمْرَة الأولى - جَمْرَةُ الوسطى - جَمْرَةُ العقبه۔- مزدلفہ سے واپس آکر ۱۰ - ۱۱ - ۱۲ - ۱۳ ذوالحجہ کو ان جمرات کو کنکریاں ماری جاتی ہیں جسے و رحی الجمار" کہا جاتا ہے۔حج کرنے والے ، ذو الحجہ کو مکہ سے منی میں آجاتے ہیں۔یہیں اس دن کی ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھتے ہیں۔9 ذوالحجہ کی فجر بھی نہیں ادا ہوتی ہے۔اسی میدان کے ایک حصہ میں وہ عظیم قربان گاہ ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیل کی قربانی کی یاد میں ہر سال لاکھوں جانور ذبح ہوتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس قربانی کی تاریخی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :- :- بقره: ۱۵۹ :