فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 325 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 325

مقام ابدانیم ۳۲۵ بیت اللہ کے دروانہہ اور ملتزم کے سامنے ایک قبہ (گنبد نما چھوٹی سی عمارت) ہے اس میں وہ پتھر رکھا ہوا ہے جس پر کھڑے ہو کہ حضرت ابراہیم نے کعبہ کی دیواریں چنیں تھیں۔اسی جگہ کو جہاں پتھر رکھا ہے " مقام ابراہیم " کہتے ہیں۔طواف کے سات چکر لگانے کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا واجب ہیں۔ان دو رکعت کا در مقام ابراہیم میں ادا کرنا زیادہ ثواب کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- زمزم " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى ، ل یعنی ابراہیم کے مقام رکھڑے ہونے کی جگہ کو مصلی (نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ۔مقام ابراہیم سے بائیں طرف اور کعبہ سے بجانب مشرق ایک کنواں ہے جو بوجہ پیاس حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے بطور نشان نمودار ہوا۔یہ کنواں اُس وقت کی یاد گار ہے اسے زمزم کہتے ہیں۔زمزم کا پانی رو بقبلہ کھڑے ہو کر بڑے ادب۔حصول برکت کی غرض سے پیا جاتا ہے۔مسجد الحرام خانہ کعبہ کے ارد گرد مستطیل اور کسی حد تک گول کھلے صحن کی وسیع و عریض مسجد ہے جہاں لوگ دائرہ کے رنگ میں صفیں بنا کر اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نمانہ پڑ ھتے ہیں۔اسی مسجد قرآن کریم میں "المسجد الحرام" کہا گیا ہے۔جیسے وہ فرماتا ہے :- فَتَدْخُلُنَّ المَسْجِدَ الْحَرَامَانَ شَاءَ اللهُ آمِنِينَ له این مسجد کا موجودہ رقبہ ایک لاکھ مربع میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ارد گر د پتھر کے ستونوں پر گنبد نما چھتوں والے بر آمد سے بنے ہوئے ہیں۔ان برآمدوں میں بھی نمازی کھڑے ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس مسجد کی شکل و صورت بڑی مختصر اور اس سے بالکل مختلف تھی۔- بقره : ۱۲۲ : :- الفتح : ۱۲۸