فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 321 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 321

۳۲۱ ی شخص ایک بت نساز گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔وہ عراق کے شہر کریم یا اُڑ کا رہنے والا تھا۔اس کے خاندان کیسے لوگوں کا گزارہ بتوں کے چڑھا دی اور ثبت فروشی پر تھا۔والد بچپن میں فوت ہو گئے تھے اور چچا کی آغوش میں وہ پلا تھا۔جس نے اپنے بیٹوں کے ساتھ اُسے بھی بت فروشی کے کام پر لگایا۔حقیقت سے نا آشنا چھا کو یہ معلوم نہ تھا کہ جس دل کو خالق کون و مکان چن چکا ہے اس میں بتوں کے لئے کیا جگہ ہو سکتی۔پہلے ہی دن ایک گاہک جو اپنی عمر کی انتہائی منزلیں طے کر رہا تھا اور تھا بھی مالدارہ ثبت خریدنے کے لئے آیا۔ثبت فروش چچا کے بیٹے خوش ہوئے کہ آج اچھی قیمت پر سودا ہو گا۔بوڑھے امیر نے ایک اچھا سابت پچھنا اور قیمت دینے ہی لگا تھا کہ اس بچہ کی توجہ اس گاہک کی طرف ہوئی اور اُس نے اُسے سوال کیا کہ میاں بوڑھے ! تم قبرمیں پاؤں ٹکائے بیٹھے ہو تم اس بہت کو کیا کرو گے ؟ اس نے جواب دیا۔اسے گھر سے جاؤں گا اور ایک صاف اور مہتر جگہ میں رکھ کہ اس کی عبادت کروں گا۔یہ سعید بچہ اس خیال پر اپنے جذبات کو روک نہ سکا۔اس نے بوڑھے سے کہا میاں ! تمہاری عمر کیا ہوگی ؟ اس نے اپنی عمر بائی اور اس بچہ نے نہایت حقارت آمیز ہنسی ہنس کر کہا کہ تم اتنے بڑے ہو اور یہ ثبت تو ابھی چند دن ہوئے میرے چچا نے بنوایا ہے۔کیا تمہیں اس کے سامنے سجدہ کر تے ہوئے شرم نہ آئے گی ؟ نہ معلوم اس بوڑھے کے دل پر توحید کی کوئی چنگاری گری یا نہ گری۔لیکن اس وقت اس بت کا خریدنا اس کے لئے مشکل ہو گیا۔اور وہ بہت وہیں پھینک کر واپس چلا گیا۔اس طرح ایک اچھے گاہک کو ہاتھ سے جاتا دیکھ کہ بھائی سخت ناراض ہوئے اور اپنے باپ کو اطلاع دی جس نے اس بچہ کی خوب خبر لی۔یہ پہلی تکلیف تھی جو اس پاک باز ہستی نے تو حید کے لئے اٹھائی مگر با وجود چھوٹی عمر اور کم نیتی کے زمانہ کے یہ سزا جوش توحید کو سرد کرنے کی بجائے اسے اور بھی بھڑ کانے کا موجب ہوئی۔سزا نے فکر کا دروازہ کھولا اور فکر نے عرفان کی کھڑکیاں کھول دیں۔یہاں تک کہ بچپن کی طبعی سعاد جوانی کا پختہ عقیدہ بن گئی اور آخر اللہ تعالیٰ کا نور نوجوان کے ذہنی نور پر گھر کیہ الہام کی روشنی پیدا کرنے کا موجب بن گیا۔آخر یہ بچہ ابراہیم کے نام سے دنیا میں مشہور ہوا۔یہ عظیم انسان اپنے شہر کے حالات سے دل برداشتہ ہو کہ وہاں سے نکل اور اپنی بیوی سارہ کے ساتھ عراق سے ہجرت کر کے پھرتے پھراتے فلسطین آپہنچا اور عرصہ تک اس ملک میں رہا۔لیکن ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی نہ بیٹا